پشاور (پاک ٹوڈے): وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ اختیار ولی اور وفاقی وزراء جھوٹے بیانیے کے ذریعے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی حکومت کو شدت پسندوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مشیر زراعت میاں عمر اور دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ وفاقی وزراء کے پاس ایک ہی اسکرپٹ ہے، جس کا آغاز شدت پسندی کے معاملے سے ہوتا ہے اور اختتام گورنر راج پر ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایک منتخب وزیراعلیٰ کو کبھی شدت پسندوں اور کبھی اسمگلروں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شفیع جان نے کہا کہ وفاقی حکومت بار بار خیبرپختونخوا اور پختونوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق پختونوں کو شدت پسند قرار دینا ان کیلئے ناقابل قبول ہے، جبکہ وفاقی وزراء اور اختیار ولی کے بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی نیا سانحہ کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ پاکستان ان کے ایمان کا حصہ ہے اور وہ ریاستی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کی حکومت اور وفاقی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حیات آباد انڈر پاس کے افتتاح کے موقع پر عوام کی بڑی شرکت سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے۔
شفیع جان نے ذاکر نامی نوجوان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اختیار ولی نے اسے ٹی ٹی پی سے جوڑنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ذاکر کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور وہ ٹیلر ماسٹر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاکر کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور اختیار ولی پر ہوگی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ذاکر کو شفاف اور آزادانہ ٹرائل کا موقع دیا جائے اور اگر وہ قصوروار ثابت ہو تو قانون کے حوالے کیا جائے۔
وزیر اطلاعات نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت لانگ مارچ کو سبوتاژ کرنے اور خیبرپختونخوا حکومت کو شدت پسندی سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں کوئی نو گو ایریا نہیں اور وفاقی حکومت کا بیانیہ ناکام ہوگا۔
شفیع جان نے اعلان کیا کہ 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پرامن لانگ مارچ لکی مروت سے شروع ہوگا۔ ان کے مطابق قافلہ لکی مروت سے کوہاٹ، پھر پشاور اور صوابی پہنچے گا، جہاں ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویژن کے قافلے بھی شامل ہوں گے، جبکہ مارچ کی منزل اسلام آباد ہوگی۔
