پیانگ یانگ (پاک ٹوڈے): امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق شمالی کوریا نے ڈرونز اور مختلف روایتی و جدید ہتھیاروں کو یکجا کرکے ’سوارم حملوں‘ کی فوجی مشقیں شروع کردی ہیں، جسے امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق رواں ماہ پہلی مرتبہ ایسی جامع فوجی مشق کی گئی جس میں ایک ہی ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ آور ڈرونز، جوہری صلاحیت رکھنے والے میزائل، راکٹس اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے کو بیک وقت استعمال کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق مشق کا مقصد مختلف ہتھیاروں کے نظام کے درمیان مربوط رابطہ قائم کرنا تھا تاکہ مرکوز فائرنگ کے ذریعے دشمن افواج کو نشانہ بنایا جا سکے۔
20 ستمبر کو شمالی کوریا نے دو مبینہ ہائپر سونک میزائلوں کے کامیاب تجربے کا بھی اعلان کیا۔ یہ میزائل آواز سے کم از کم 5 گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرنے کے ساتھ دوران پرواز اچانک رخ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث انہیں جدید دفاعی نظام کے لیے چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کو جدید 240 ملی میٹر ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹم کے راکٹس کے تجربات کی بھی اطلاع دی، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ڈرونز اور میزائلوں پر مشتمل اس نوعیت کے کثیر الجہتی حملے یوکرین جنگ اور حالیہ ایران تنازع میں بھی استعمال ہونے والی جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ ایسے مشترکہ حملے مغربی فضائی دفاعی نظام کی بعض کمزوریوں کو نمایاں کرتے ہیں۔
سوارم حملے سے مراد ایک ہی ہدف پر ایک وقت میں ایک یا مختلف اقسام کے متعدد ہتھیاروں سے حملہ کرنا ہے۔ مختلف رفتار سے سفر کرنے والے ہتھیاروں کے درمیان مربوط رابطہ قائم کرنا ایک پیچیدہ لاجسٹک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔
اخبار کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اپنے جوہری پروگرام کے ساتھ ساتھ سوویت دور کے روایتی ہتھیاروں کو جدید بنانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
