کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان حکومت نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پورے صوبے میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان بھر میں عوامی مقامات پر اجتماعات، دھرنوں، ریلیوں اور مظاہروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے اور نقاب کے استعمال پر بھی پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ پورے صوبے میں ایک ماہ تک جاری رہے گا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت نے بھی صوبے کے مختلف علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کی ہے۔ پنجاب میں 23 ستمبر سے 5 اکتوبر تک عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماعات، ریلیوں، دھرنوں اور جلوسوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ اسلحہ لے جانے اور اس کی نمائش پر بھی پابندی ہے۔
پنجاب حکومت کے مطابق یہ اقدامات سیکیورٹی اور انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر کیے گئے ہیں، جن میں دہشت گرد حملوں کے خدشات کے ساتھ ساتھ ممکنہ سیاسی مظاہروں اور لانگ مارچ کے پیش نظر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ظاہر کی گئی تھی۔ پنجاب میں شادیوں، نماز جنازہ، تدفین اور عبادت گاہوں کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
