کابل (پاک ٹوڈے): افغان حکومت نے مکہ مکرمہ اور حرمین شریفین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی کوشش سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سعودی حکام کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے منگل کی شام یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے جنوب میں بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کردیا تھا۔ تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
عبدالقہار بلخی نے کہا کہ حرمین شریفین پوری امت مسلمہ کے مشترکہ مقدس اور قابل احترام مقامات ہیں، اس لیے ان کی سلامتی، حرمت اور تقدس کو تنازعات، تشدد اور فوجی کارروائیوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق حرمین شریفین کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ مسلمانوں کے گہرے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق پیر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ گزشتہ ہفتے مملکت بھر میں ہونے والے حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
خطے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر مقدس مقامات کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔کابل (پاک ٹوڈے): افغان حکومت نے مکہ مکرمہ اور حرمین شریفین کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے کسی بھی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی کوشش سے متعلق رپورٹس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سعودی حکام کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے منگل کی شام یمن کے حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے جنوب میں بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کردیا تھا۔ تاہم حوثیوں نے مکہ مکرمہ یا دیگر مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کی تردید کی ہے۔
عبدالقہار بلخی نے کہا کہ حرمین شریفین پوری امت مسلمہ کے مشترکہ مقدس اور قابل احترام مقامات ہیں، اس لیے ان کی سلامتی، حرمت اور تقدس کو تنازعات، تشدد اور فوجی کارروائیوں کے اثرات سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق حرمین شریفین کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ مسلمانوں کے گہرے جذبات کو مجروح کرتا ہے اور خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق پیر کو خمیس مشیط، ابہا اور طائف میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہوئے، جبکہ گزشتہ ہفتے مملکت بھر میں ہونے والے حملوں میں 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
خطے میں سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مکہ مکرمہ سمیت دیگر مقدس مقامات کی سلامتی کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔
