اسلام آباد (پاک ٹوڈے) وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قیدیوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق اہم سوالات اٹھاتے ہوئے اٹارنی جنرل کے چار سوالات کو تحریری حکم نامے کا حصہ بنا دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے سوال اٹھایا کہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ کا اختیار کس عدالت کو حاصل ہے؟
عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آئین اور پرزن رولز 1978 کے تحت قیدیوں کو حاصل حقوق کیا ہیں اور قیدیوں کے بنیادی حقوق کے حوالے سے ریاست کی ذمہ داریوں کا دائرہ کار اور حدود کیا ہیں؟
تحریری حکم نامے میں عدالت نے یہ سوال بھی شامل کیا کہ اگر کسی ریاستی عہدیدار کی جانب سے قیدی کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جائے تو اس کے کیا قانونی نتائج برآمد ہوتے ہیں؟
عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کا سپریم کورٹ میں موجود تمام ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی تحریری جوابات جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
کیس میں عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا تعلق بنیادی حقوق کے نفاذ، قیدیوں کو حاصل قانونی حقوق اور ان حقوق کے تحفظ کے لیے ریاستی ذمہ داریوں سے ہے۔
