ایجبسٹن ٹیسٹ میں بھی پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہوگئی۔ انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میں چار تبدیلیاں کی گئیں اور تین کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا، تاہم نئی تشکیل شدہ ٹیم بھی بیٹنگ کے شعبے میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی۔
انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جس کے بعد قومی بیٹرز ایک بار پھر انگلش باؤلنگ کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ پاکستان کی پوری ٹیم 133 رنز پر ڈھیر ہوگئی، جبکہ سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ نمایاں بیٹر رہے۔
پلیئنگ الیون میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں، نئے کھلاڑیوں کو موقع دینے اور کوچنگ سیٹ اپ میں ردوبدل کے باوجود بیٹنگ کے مسائل برقرار رہے۔ اس سے قبل لیڈز اور لارڈز میں بھی پاکستان کو بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
مسلسل ناکامیوں نے قومی ٹیم کی سلیکشن، کوچنگ اور مجموعی کرکٹ سسٹم پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ٹیم میں بار بار تبدیلیوں کے باوجود اگر نتائج میں بہتری نہ آئے تو مسئلہ صرف کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ سسٹم، منصوبہ بندی اور تسلسل کا بھی دکھائی دیتا ہے۔
