کراچی (پاک ٹوڈے): شہرِ قائد کے علاقے منگھوپیر میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان کی فائرنگ سے میٹرک کا 15 سالہ طالب علم جاں بحق ہو گیا۔ مقتول اپنے والدین کی 8 بیٹیوں کے بعد اکلوتا بیٹا تھا۔
پولیس کے مطابق افسوسناک واقعہ منگھوپیر میں واقع ایک رہائشی مکان میں پیش آیا جہاں مسلح ڈاکو لوٹ مار کی نیت سے داخل ہوئے۔ مقتول کی شناخت 15 سالہ روشم کے نام سے ہوئی ہے جو دسویں جماعت کا طالب علم تھا۔
مقتول کے والد روئیداد حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعہ کی تفصیلات بتائیں کہ رات گئے تقریباً 6 ڈاکو واردات کی غرض سے ان کے گھر میں داخل ہوئے، جن میں سے دو ملزمان پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔ والد کے مطابق جیسے ہی گھر میں غیر معمولی آہٹ ہوئی، وہ اور ان کا بیٹا اپنے اپنے کمروں سے باہر نکلے۔
روئیداد حسین کے مطابق ملزمان نے انہیں دیکھتے ہی اچانک سیدھی فائرنگ شروع کر دی۔ اس دوران ایک گولی 15 سالہ روشم کے سینے میں لگی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
غم زدہ والد نے اعلیٰ حکام اور پولیس انتظامیہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ ان کے بے گناہ بیٹے کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے عبرت ناک سزا دی جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
