کراچی (پاک ٹوڈے): کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خاتون اور ان کے بھائی پر تشدد کے واقعے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کی ساس، سالی، سالے اور واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
تھانہ درخشاں میں متاثرہ خاتون کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعے کا آغاز 20 اگست کی رات تقریباً پونے 12 بجے ہوا۔ متاثرہ خاتون نے متن میں موقع کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک پولیس اہلکار نے ان کے گھر کی گھنٹی بجا کر بتایا کہ "میڈم مریم نیچے بلا رہی ہیں”۔ کچھ ہی دیر بعد مریم نامی خاتون بدکلامی کرتی ہوئی اوپر آئیں اور فلیٹ کے دروازے پر لاتیں مارنا شروع کر دیں۔
ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا کہ جب متاثرہ خاتون نے دروازہ کھولا تو ملزمہ نے ان کے بال پکڑ لیے اور موبائل فون چھین کر نیچے پھینک دیا۔ شور سن کر متاثرہ خاتون کی والدہ باہر آئیں تو ملزمہ نے ان پر بھی ہاتھ اٹھایا اور زدوکوب کیا۔ اس کے بعد ملزمہ مریم اپنی بیٹی اور مسلح پولیس اہلکاروں کے ہمراہ دوبارہ اوپر آئیں اور موبائل فونز چھیننے کی کوشش کی۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ تلخ کلامی کے دوران ملزمہ کی بیٹی نے ہاتھ میں موجود ڈمبل سے ان پر حملہ کر دیا، جس سے بچنے کے لیے انہوں نے خود کو فلیٹ میں بند کر کے مدددگار 15 پولیس کو اطلاع دی۔ الزام کے مطابق، فلیٹ کے باہر موجود پولیس اہلکاروں نے دروزے پر لگا سی سی ٹی وی کیمرہ توڑ دیا اور بعد ازاں درخشاں تھانے کی پولیس نے دروازہ توڑ کر گھر کے اندر داخل ہو کر فونز تحویل میں لیے اور بہن بھائی کو تھانے منتقل کر دیا۔
سابقہ کارروائی اور انکوائری:
اس سے قبل واقعے کے فوری بعد درخشاں پولیس نے متاثرہ خاندان کے خلاف ہی مقدمہ درج کر کے انہیں جیل بھیج دیا تھا، جبکہ ایس ایس پی کے رشتہ داروں پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو انکوائری کا حکم دیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ کی تحقیقاتی رپورٹ میں ویڈیو شواہد اور موقع کے حقائق کی روشنی میں ایس ایس پی کورنگی کے اہلخانہ اور موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی، جس کی روشنی میں اب باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
