کوئٹہ (پاک ٹوڈے): کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گوہرام بلوچ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں اگست 2026ء کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کی جانے والی اپنی ملٹری اور گوریلا کارروائیوں کی ماہانہ رپورٹ جاری کی گئی ہے۔
بی ایل ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تنظیم نے اگست کے مہینے میں بلوچستان کے 21 مختلف اضلاع اور علاقوں میں مجموعی طور پر 51 آپریشنز سر انجام دیے ہیں۔
بی ایل ایف کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 102 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 28 زخمی ہوئے، جبکہ 13 مبینہ مخبروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تنظیم نے اپنے 9 جنگجوؤں کے مارے جانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 29 اگست کو مشکیل شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ایک منظم گوریلا حملہ کیا گیا جس میں 25 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ 3 کواڈ کاپٹر اور 1 ڈرون تباہ کیا گیا۔
بی ایل ایف نے 7 شاہراہوں کی ناکہ بندی، 10 فوجی قافلوں پر حملوں، 10 بڑے کیمپوں اور 16 چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ 10 گاڑیاں اور ایک موبائل ٹاور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ تمام کارروائیاں خاران، تمپ، سوراب، خضدار، تربت، ہیرونک، پیدرکھ، چاغی، مستونگ، نوشکی، گومازی، مشکے، شادی کور، بلیدہ، مند، قلات، جھاؤ، آواران، کوئٹہ، پنجگور اور مشکیل میں کی گئیں۔
