صنعاء / ریاض (پاک ٹوڈے): یمن کے مرکزی سٹیٹ سیکیورٹی اپریٹس نے ایک کامیاب اور حساس سیکیورٹی آپریشن کے نتیجے میں عالمی دہشت گرد تنظیم ‘داعش’ کے مرکزی ترجمان ابو حذیفہ الانصاری کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سیکیورٹی حکام کے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ کارروائی صوبہ حضرموت کے شہر سیئون میں فجر کے وقت ایک رہائشی مکان پر کی گئی جہاں مطلوب دہشت گرد روپوش تھا۔ آپریشن کے دوران مکان میں موجود ایک دیگر شخص نے مقاومت کی، جسے زخمی حالت میں گرفتار کر کے طبی امداد کی فراہمی کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک خودکش بیلٹ برآمد کر کے ناکارہ بنا دی گئی، جبکہ تلاشی کے دوران 2 لیپ ٹاپ، 5 موبائل فونز اور 2 ٹیبلٹس بھی تحویل میں لیے گئے ہیں جنہیں تفتیش کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ آپریشن کے دوران مکان میں موجود 8 شہریوں (خواتین اور بچوں) کو مکمل طور پر محفوظ رکھتے ہوئے باہر نکال لیا گیا۔
ابو حذیفہ الانصاری کون تھا؟
ابو حذیفہ الانصاری کا شمار داعش کے انتہائی اہم اور مرکزی رہنماؤں میں ہوتا تھا، جسے اگست 2023ء میں تنظیم کا باقاعدہ ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ وہ داعش کی مختلف پروپیگنڈا آڈیو ریکارڈنگز کے ذریعے سامنے آتا رہا، جبکہ اس کی آخری آڈیو فروری 2026ء میں سامنے آئی تھی جس میں اس نے شامی حکومت کے خلاف ہذیان گوئی کی تھی۔
یمنی سیکیورٹی اپریٹس نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور مطلوب عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے تک آپریشنز کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔
