کوئٹہ (پاک ٹوڈے): بلوچستان حکومت نے بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے وابستہ مطلوب 9 خواتین کے سروں کی قیمتیں مقرر کر دی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ان مطلوب خواتین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 10 سے 15 لاکھ روپے تک کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ اطلاع دینے والوں کی شناخت مکمل خفیہ رکھی جائے گی۔
حکومت بلوچستان کے مطابق ان خواتین کا تعلق گوادر، جیوانی، تربت اور دشت کے علاقوں سے ہے اور ان میں حنیفاں بی بی، عائشہ، رقیہ، حفصہ، زہرہ، امینہ بانی، زرمین اور عزیزاں شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ خواتین بلوچستان میں امن دشمن کارروائیوں اور لوگوں کی ذہن سازی میں ملوث رہی ہیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ بلوچ روایت میں عورت کی حرمت بنیادی قدر ہے اور خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بلوچ روایات کا استحصال ہے، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے قانون یکساں طور پر نمٹے گا، مگر دوسری طرف بلوچ قوم پرستوں اور بلوچستان میں مظالم کے خلاف اواز اٹھانے والے طبقے کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف بلوچ روایات کے خلاف ہیں بلکہ یہ بلوچوں کے لیے ریاست کی طرف سے نفرت کا پیغام ہے۔
