حمید سمسور
بلوچستان پولیس کے مطابق لسبیلہ میں نیشنل بینک آف پاکستان کی ڈکیتی کے ملزمان کی جانب سے اپنی شناخت اور شواہد چھپانے کی کوششوں کے باوجود مسلسل تحقیقات کے نتیجے میں مبینہ ماسٹر مائنڈ سمیت تین مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ 17 کروڑ روپے کی مالیاتی لین دین کا سراغ بھی لگا لیا گیا۔
اس کیس میں اہم پیش رفت ایک بڑی ڈکیتی کی تفتیش کے دوران سامنے آئی، جس میں ایک پولیس افسر کو زخمی کرنے میں ملوث ملزمان کی نشاندہی بھی ہوئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں پولیس افسر کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔
ایس ایس پی لسبیلہ کی پریس کانفرنس
ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے دیگر پولیس افسران کے ہمراہ اوتھل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل بینک اوتھل میں فروری 2025 میں ہونے والی 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی ڈکیتی میں ملوث گروہ کے مرکزی ملزم سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزمان لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل کے طالب علم ہیں۔
ملزمان کے قبضے سے لوٹی گئی رقم سے خریدی گئی دو جدید ہونڈا سوک گاڑیاں، ایک کارگو رکشہ، ایک یونیک موٹر سائیکل، بھاری مقدار میں اسلحہ اور سکیورٹی فورسز کی جعلی وردیاں برآمد کی گئی ہیں۔
ایس ایس پی لسبیلہ نے بتایا کہ زوہیب، بلال، اکرم، مرتضیٰ جواد اور حمید سمیت مجموعی طور پر پانچ ملزمان اس واردات میں ملوث تھے۔ واردات کے وقت ملزمان نے سکیورٹی فورسز سے ملتی جلتی وردیاں پہن رکھی تھیں، جو انہوں نے آن لائن منگوائی تھیں۔
نجیب اللہ پندرانی کے مطابق واردات کے وقت ایس ایچ او یار محمد کمانڈو نے فرار ہونے والے ملزمان کا تعاقب کیا تو انہوں نے اندھا دھند فائرنگ کر کے ایس ایچ او کو شدید زخمی کر دیا، جس کے نتیجے میں ان کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی۔ ملزمان پہاڑوں کی طرف فرار ہوتے ہوئے گاڑی اور اسلحے کو آگ لگا کر موقع سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
پولیس نے تفتیش کے دوران ملزمان کا سراغ کیسے لگایا؟
ایس ایس پی لسبیلہ نجیب اللہ پندرانی نے بتایا کہ جدید تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مرکزی ملزم زوہیب کے بینک اکاؤنٹ میں واردات سے قبل چند ہزار روپے موجود تھے، تاہم ڈکیتی کے بعد اچانک اس کے اکاؤنٹ میں 17 کروڑ روپے سے زائد رقم منتقل ہوئی۔
پولیس نے مرکزی ملزم زوہیب کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو اس نے واردات سے متعلق تفصیلات بتائیں، جس کے بعد مزید دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے ہندو تاجر کرشنا کے اکاؤنٹ میں بھی تین کروڑ روپے منتقل کیے۔ پولیس نے تاجر کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے، جبکہ روپوش دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
نیشنل بینک اوتھل میں ڈکیتی کب ہوئی؟
لسبیلہ کے علاقے اوتھل میں نیشنل بینک میں ڈکیتی کا واقعہ 28 فروری 2025 کو صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان پیش آیا تھا، جس کے دوران بینک سے 20 کروڑ 20 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے تھے۔
حیران کن نیٹ ورک
پولیس کے مطابق تفتیش کے ابتدائی مرحلے میں شبہ تھا کہ واردات میں کوئی کالعدم تنظیم ملوث ہو سکتی ہے، تاہم زیرِ حراست ملزمان سے تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ اس ڈکیتی میں لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل کے طلبہ کا ایک گروہ ملوث ہے، جن کی عمریں تقریباً 25 سال ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان اکثر بینک ڈکیتیوں پر مبنی فلمیں دیکھا کرتے تھے۔ انہوں نے واردات کے لیے ایک گاڑی خریدی اور اس کی شناخت چھپانے کے لیے اس کا رنگ بھی تبدیل کیا تھا۔
تاہم گرفتار مبینہ ملزمان کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔
