پاک ٹوڈے | خصوصی تحقیقی رپورٹ
بلوچستان کی سب سے زیادہ متحرک مسلح علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) میں قیادت کی تبدیلی نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ بشیر زیب بلوچ کو عہدے سے ہٹانے کا باضابطہ اعلان تو کر دیا گیا ہے، لیکن اس فیصلے کے پس پردہ محرکات، اندرونی اختلافات اور مستقبل کی قیادت کے حوالے سے اب بھی کئی پہلو غیر واضح ہیں۔
بی ایل اے اسے اپنے تنظیمی آئین کے تحت ایک غیر معمولی اور پُرامن قیادتی منتقلی قرار دے رہی ہے، تاہم سکیورٹی امور کے تجزیہ کاروں اور مختلف ذرائع کی رپورٹس کے مطابق یہ تبدیلی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ کئی ماہ سے جاری اندرونی اختلافات، آپریشنل حکمت عملی پر تنازع، مالی معاملات اور طاقت کی کشمکش کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جس بشیر زیب نے گزشتہ سات برس سے زائد عرصے تک تنظیم کی قیادت کی، انہیں اچانک عہدے سے الگ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا واقعی تنظیم کے آئینی اصولوں کے تحت قیادت تبدیل کی گئی یا فروری 2026ء سے جاری عملی بے دخلی کو اب باضابطہ شکل دی گئی ہے؟
آخر کیا ہوا؟ بی ایل اے کا باضابطہ اعلان
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے 3 نومبر 2026ء کو اپنے ترجمان جیئند بلوچ کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اعلان کیا کہ تنظیم کے کمانڈر انچیف بشیر زیب بلوچ اب مزید اس منصب پر کام نہیں کریں گے۔
بیان کے مطابق 16 اکتوبر 2026ء کو تنظیم کے اعلیٰ ترین اداروں کے مشترکہ اجلاس میں سینئر کمانڈ کونسل کے فیصلے کے تحت بشیر زیب کو قیادت سے الگ کرنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا۔
تنظیم نے دعویٰ کیا کہ بشیر زیب کے تمام انتظامی، عسکری اور پالیسی سازی کے اختیارات سینئر کمانڈ کونسل کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جو نئے کمانڈر انچیف کے انتخاب تک تنظیم کے تمام اہم معاملات چلائے گی۔
تاہم نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی ممکنہ امیدوار کا نام سامنے لایا گیا۔
بی ایل اے نے اپنے بیان میں یہ تاثر بھی دیا کہ قیادت کی تبدیلی کے باوجود اس کی کارروائیاں تمام محاذوں پر بغیر کسی تعطل کے جاری رہیں گی۔
بشیر زیب بلوچ کون ہیں؟ طلبہ سیاست سے مسلح تنظیم کی سربراہی تک
بشیر زیب بلوچ کا نام گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان کی مسلح علیحدگی پسند تحریک کے اہم کرداروں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ تاہم ان کا سیاسی اور تنظیمی سفر مسلح سرگرمیوں سے شروع نہیں ہوا بلکہ وہ طلبہ سیاست کے ذریعے نمایاں ہوئے۔
ان کی ابتدائی تعلیم نوشکی میں ہوئی، بعد ازاں انہوں نے کوئٹہ ڈگری کالج سے ہائر سیکنڈری تعلیم حاصل کی۔ وہ پولی ٹیکنیک کالج کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ بھی کر چکے ہیں۔
2008ء میں انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ ادب کے شعبے میں ماسٹرز پروگرام میں داخلہ لیا، تاہم طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپوں کے تناظر میں ان کے داخلے پر پابندی عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بی ایس او آزاد سے بی ایل اے تک
بشیر زیب 2006ء سے 2012ء تک بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد (بی ایس او آزاد) کے چیئرمین رہے۔ یہ وہی طلبہ تنظیم ہے جس پر حکومت پاکستان نے مارچ 2013ء میں پابندی عائد کر دی تھی۔
طلبہ سیاست کے دوران ان کے نظریاتی رجحانات مسلح علیحدگی پسند تحریک کی طرف بڑھتے گئے۔
2014ء میں شائع ہونے والی ان کی تحریر ’’آزادی کی شاہراہ پر مختصر سفر‘‘ کے مطابق وہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے نظریات سے متاثر تھے اور مسلح جدوجہد کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ بی ایل ایف میں شمولیت کی خواہش پوری نہ ہونے کے بعد وہ 2012ء میں بلوچ لبریشن آرمی کا حصہ بن گئے۔
یہیں سے ان کا تنظیمی سفر ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا، جس کا اختتام بالآخر انہیں تنظیم کے سربراہ کے منصب تک لے گیا۔
2017ء کی تقسیم اور نئی بی ایل اے کا قیام
بشیر زیب کی زندگی کا ایک اہم موڑ دسمبر 2017ء میں آیا، جب انہیں اور اسلم بلوچ المعروف استاد اسلم یا اچھو کو تنظیمی اصولوں کی خلاف ورزی کے الزامات کے تحت اس وقت کی بی ایل اے سے نکال دیا گیا، جو حیربیار مری کے دھڑے سے وابستہ تھی۔
اسلم بلوچ پر الزام تھا کہ انہوں نے تنظیمی قیادت کی منظوری کے بغیر علاج کے لیے بھارت کا سفر کیا تھا۔
اس علیحدگی کے بعد دونوں رہنماؤں نے بی ایل اے کے نام سے ایک الگ دھڑا قائم کیا، جسے تجزیہ کار عموماً بی ایل اے-جے (BLA-J) کے نام سے شناخت کرتے ہیں۔
اس نئے دھڑے کو تنظیم کے متعدد اہم فیلڈ کمانڈروں کی حمایت حاصل ہوئی، جس کے نتیجے میں یہ دھڑا حیربیار مری کے پرانے دھڑے کے مقابلے میں زیادہ فعال اور بااثر ہوتا چلا گیا۔
25 دسمبر 2018ء کو اسلم بلوچ افغانستان کے شہر قندھار میں ایک خودکش حملے میں مارے گئے۔ بی ایل اے نے اس حملے کا الزام پاکستانی انٹیلی جنس سے منسلک عناصر پر عائد کیا تھا۔
اسلم بلوچ کی ہلاکت کے بعد تنظیم کی سینئر کمانڈ کونسل اور آپریشنل کور کمیٹی نے بشیر زیب کو نیا سپریم کمانڈر منتخب کیا۔
یوں ایک سابق طلبہ رہنما نے مسلح تنظیم کی قیادت سنبھال لی اور اگلے سات برس سے زائد عرصے تک اس منصب پر فائز رہے۔
بشیر زیب کے دور میں بی ایل اے کتنی تبدیل ہوئی؟
بشیر زیب کی قیادت میں بی ایل اے نے اپنی کارروائیوں کے دائرے کو وسعت دی اور بلوچستان سے باہر بھی متعدد بڑے حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
ان کے دورِ قیادت میں سامنے آنے والی نمایاں کارروائیوں میں نومبر 2018ء میں کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملہ، 2020ء میں کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ، اپریل 2022ء میں کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ کو نشانہ بنانے والا خودکش حملہ اور مارچ 2025ء میں جعفر ایکسپریس ٹرین کو اغوا کرنے کی کارروائی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ آپریشن ہیروف اور آپریشن ہیروف ٹو کے نام سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مربوط حملے بھی اسی دور میں سامنے آئے۔
ان کارروائیوں نے بی ایل اے کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کیا، لیکن ساتھ ہی تنظیم کی حکمت عملی، شہریوں کو لاحق خطرات اور خودکش حملوں میں خواتین کے استعمال پر شدید تنقید بھی ہوئی۔
بشیر زیب خود پاکستانی حکام کو مطلوب افراد میں شامل رہے ہیں۔ بلوچستان حکومت کی جانب سے ستمبر 2026ء میں جاری انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ان کے سر کی قیمت 25 کروڑ روپے مقرر کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
قیادت سے علیحدگی کی اصل وجہ کیا ہے؟
بشیر زیب کی برطرفی کے معاملے میں دو مختلف بیانیے سامنے آ رہے ہیں۔ ایک خود بی ایل اے کا ہے، جو اسے تنظیمی آئین کے مطابق قیادت کی تبدیلی قرار دیتی ہے، جبکہ دوسرا تجزیہ کاروں اور مختلف ذرائع کی رپورٹس پر مبنی ہے، جن کے مطابق تنظیم کے اندر اختلافات کئی ماہ سے شدت اختیار کر چکے تھے۔
بی ایل اے کا مؤقف: شخصیات نہیں، ادارہ اہم ہے
بی ایل اے کے مطابق قیادت کی تبدیلی 2018ء میں تنظیم کی ازسرنو تشکیل کے دوران متعارف کروائے گئے اصولوں کے تحت کی گئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اسلم بلوچ نے ایسے تنظیمی اصول متعارف کروائے تھے جن کا مقصد قیادت کو موروثی، شخصی یا تاحیات اختیار بننے سے روکنا تھا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی بااثر یا اعلیٰ عہدے پر فائز کیوں نہ ہو، تاحیات کمانڈر انچیف نہیں رہ سکتا۔
تنظیم نے اس فیصلے کو بلوچ مسلح تحریک کی تاریخ میں پُرامن اور جمہوری قیادتی منتقلی کی غیر معمولی مثال قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ اس عمل کے دوران نہ کوئی تنظیمی تقسیم ہوئی اور نہ ہی اندرونی تصادم۔
تاہم اس مؤقف کے ساتھ چند اہم سوالات بھی موجود ہیں۔
تنظیم نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کمانڈر انچیف کے انتخاب اور عہدے سے ہٹانے کا باقاعدہ طریقۂ کار کیا ہے؟ قیادت کی مدت کتنی مقرر ہے؟ اور اگر کوئی متعین مدت موجود نہیں تو بشیر زیب کے خلاف قیادت کی تبدیلی کا فیصلہ اسی وقت کیوں کیا گیا؟
یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ تنظیم کے اعلان سے پہلے ہی بشیر زیب کی عملی غیر موجودگی اور تنظیمی سرگرمیوں سے دوری کے حوالے سے اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔
آپریشن ہیروف ٹو: حکمت عملی نے قیادت میں دراڑ ڈال دی؟
اسلام آباد میں قائم تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے سربراہ عبداللہ خان کے مطابق بشیر زیب اور تنظیم کے بعض سینئر کمانڈروں کے درمیان اختلافات کئی ماہ سے جاری تھے۔
ان اختلافات کی بنیادی وجہ 31 جنوری 2026ء کو شروع ہونے والے آپریشن ہیروف ٹو کی حکمت عملی اور اس کے نتائج بتائے جاتے ہیں۔
پکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی جوابی کارروائیوں میں تقریباً ایک ہفتے کے دوران کم از کم 215 جنگجو مارے گئے، جبکہ بی ایل اے نے اپنے بیان میں صرف 96 ہلاکتوں کا اعتراف کیا تھا۔
یہ اعداد و شمار مختلف ذرائع کے دعووں پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، تاہم تنظیم کے اندر آپریشن کے نتائج پر اختلافات کی اطلاعات اس قیادتی تبدیلی کے اہم پہلو کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق مجید بریگیڈ کے سربراہ کیپٹن رحمان گل، جنہیں سابق پاکستانی فوجی اہلکار بتایا جاتا ہے، آپریشن کی حکمت عملی سے اختلاف رکھتے تھے۔
ان کا مبینہ مؤقف تھا کہ بڑی تعداد میں جنگجوؤں کو بیک وقت مختلف محاذوں پر متحرک کرنا گوریلا جنگ کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا اور اس سے مخالف فورسز کو تنظیم کے ارکان اور ٹھکانوں کی نشاندہی میں آسانی ہوتی ہے۔
اس کے برعکس وہ محدود اور چھوٹے دستوں پر مبنی کارروائیوں کے حامی بتائے جاتے ہیں۔
فروری ہی میں بشیر زیب کا اختیار ختم ہو چکا تھا؟ پکس کے ذرائع کے مطابق بشیر زیب کو فروری 2026ء سے ہی تنظیم کی مرکزی فیصلہ سازی سے دور کر دیا گیا تھا اور اس دوران رحمان گل تنظیمی اور عسکری معاملات میں زیادہ نمایاں ہوتے چلے گئے۔
ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپریشن ہیروف ٹو کے آغاز سے ایک روز قبل بشیر زیب کا تنظیمی پلیٹ فارم پر آخری بیان سامنے آیا تھا، جس کے بعد ان کا کوئی نیا بیان تنظیم کے سرکاری ذرائع سے جاری نہیں ہوا۔
اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو 3 نومبر کا اعلان کسی نئی تبدیلی کے بجائے پہلے سے جاری عملی قیادتی تبدیلی کو باضابطہ شکل دینے کا اقدام تھا۔
خواتین خودکش حملہ آور: تنظیم کے لیے ایک اور تنازع
بشیر زیب کی قیادت کے دوران خواتین خودکش حملہ آوروں کے استعمال میں اضافے نے بھی تنظیم کے اندر اور باہر بحث کو جنم دیا۔
محقق ملک سراج اکبر کے مطابق تنظیم کی قیادت خواتین کو اس نوعیت کی کارروائیوں سے دور رکھ سکتی تھی، لیکن ان کے بقول میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اس رجحان کو جاری رکھا گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی کے ڈاکٹر خرم اقبال کے مطابق حملوں میں بڑھتی ہوئی بے رحمی نے بلوچستان سے باہر تنظیم کے لیے حمایت کے امکانات کو متاثر کیا، جبکہ خودکش حملوں کے خلاف بین الاقوامی رائے عامہ نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے مؤقف کو تقویت دی۔
بلوچستان کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کے ڈی آئی جی اعتزاز گورایا نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تنظیمی قیادت کے اپنے خاندانوں کے افراد سرکاری ملازمتوں سے وابستہ ہیں۔
یہ تنقیدیں بشیر زیب کے دورِ قیادت میں تنظیم کی حکمت عملی اور اس کے سماجی و سیاسی اثرات پر اٹھنے والے اہم سوالات میں شامل رہی ہیں۔
اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ بشیر زیب کہاں ہیں؟ کیا وہ تنظیم سے مکمل طور پر الگ ہو چکے ہیں؟ کیا وہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا انہیں تنظیم کے اندرونی اختلافات کے نتیجے میں عملی طور پر غیر مؤثر کر دیا گیا ہے؟
ان سوالات کا جواب ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ یہی غیر یقینی صورت حال اس پورے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
بی ایل اے کی تقسیم کی تاریخ: کیا ایک اور دھڑا بندی ہونے جا رہی ہے؟
بی ایل اے میں قیادت کے اختلافات اور تنظیمی تقسیم کی تاریخ نئی نہیں۔
تنظیم کا ابتدائی دھڑا حیربیار مری کی قیادت سے وابستہ تھا۔ بالاچ مری کی 2007ء میں ہلاکت کے بعد بھی تنظیم کے اندر مختلف شخصیات اور کمانڈروں کے درمیان اختلافات موجود رہے، جنہوں نے بالآخر 2017ء میں اسلم بلوچ اور بشیر زیب کی علیحدگی کی صورت اختیار کی۔
اس تقسیم کے نتیجے میں بی ایل اے کا نیا دھڑا وجود میں آیا، جسے عموماً بی ایل اے-جے کہا جاتا ہے، جبکہ حیربیار مری سے وابستہ دھڑا بی ایل اے-آزاد کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اب دونوں دھڑوں کے اندر بھی قیادتی اختلافات اور تنظیمی اصلاحات کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔
اپریل 2026ء میں بی ایل اے-آزاد کے بعض فیلڈ کمانڈروں نے تنظیمی آئین میں اصلاحات اور تحریری اصولوں کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے ریفارم کمانڈ کونسل قائم کی۔
اس کونسل نے ترجمان آزاد بلوچ کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا، جبکہ 20 اکتوبر کو بولان کے کمانڈر کی تقرری سمیت دیگر تنظیمی فیصلوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دوسری جانب آزاد بلوچ کی طرف سے الگ بیانات جاری کیے جاتے رہے۔
حیربیار مری کی سیاسی جماعت فری بلوچستان موومنٹ میں بھی اکتوبر کے آخری ہفتے میں پانچ سینئر رہنماؤں اور دو بانی ارکان کے مستعفی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ تمام پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند تحریک کے مختلف دھڑوں میں قیادت، تنظیمی ڈھانچے اور اختیارات کی تقسیم کے معاملات ایک بار پھر اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
پکس کے تجزیے کے مطابق بشیر زیب کی برطرفی اور حیربیار مری کے دھڑے میں بڑھتے ہوئے دباؤ سے دونوں دھڑوں کے درمیان کسی ممکنہ اتحاد یا مذاکرات کی راہ کھل سکتی ہے، تاہم تاریخی رقابت، الگ تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے متضاد دعوے اس عمل میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟ رحمان گل کی ممکنہ سربراہی اور بشیر زیب کا مستقبل
بشیر زیب کی برطرفی کے بعد سب سے اہم سوال نئے کمانڈر انچیف کی تقرری کا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کیپٹن رحمان گل ممکنہ امیدواروں میں نمایاں ہیں۔ انہیں اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق وہ فروری 2026ء سے تنظیم کے عملی معاملات میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر رحمان گل کو باضابطہ طور پر کمانڈر انچیف مقرر کیا جاتا ہے تو یہ محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ تنظیم کے اندر طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی تصدیق بھی ہو سکتی ہے۔
دوسری طرف بشیر زیب کا مستقبل بھی غیر واضح ہے۔ کیا وہ تنظیم سے مکمل طور پر الگ ہو جائیں گے؟ کیا انہیں کسی دوسرے منصب پر برقرار رکھا جائے گا؟ یا وہ اپنی سابقہ حیثیت اور اثرورسوخ بحال کرنے کی کوشش کریں گے؟
سینئر کمانڈ کونسل کے لیے بھی یہ ایک بڑا امتحان ہوگا کہ آیا وہ مختلف کمانڈروں کے درمیان اختلافات کو قابو میں رکھ کر تنظیم کو متحد رکھ سکتی ہے یا قیادت کی تبدیلی ایک نئی تقسیم کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔
پاکستانی ریاست کے لیے یہ صورت حال تنظیمی اختلافات اور دھڑے بندی کے تناظر میں اہم ہو سکتی ہے، تاہم بلوچستان میں جاری سیاسی، سماجی اور انتظامی مسائل کے حل کے بغیر محض تنظیمی تبدیلیوں سے دیرپا امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
