افتخار خان | لندن
کیا کسی شہری کے بنیادی حقوق کا دفاع کرنا، ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرنا اور غیر مقبول مقدمات میں وکالت کرنا کسی وکیل کے لیے جرم بن سکتا ہے؟ پاکستان کی معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ایمان زینب مزاری حاضر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت سے ملنے والی 10 سال قید کی سزا نے ایک بار پھر یہ سوال ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھا دیا ہے۔
پاکستان میں انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور آزادیِ اظہار کے حوالے سے پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے، تاہم ان دونوں وکلا کو سزا سنائے جانے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق اور قانونی امور سے متعلق 23 بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے سزاؤں کی مذمت کی ہے اور پاکستانی حکام سے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
6 نومبر کو جاری ہونے والے اس مشترکہ بیان پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن کے ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس، فرنٹ لائن ڈیفنڈرز، ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر، لا سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز، نیویارک سٹی بار ایسوسی ایشن اور کونسل آف بارز اینڈ لا سوسائٹیز آف یورپ سمیت 23 تنظیموں نے دستخط کیے ہیں۔
مشترکہ بیان میں ان سزاؤں کو پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف کے غلط استعمال کی ایک سنگین مثال قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو ایسے وکلا کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جو انسانی حقوق کے دفاع اور قانونی معاونت کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
تنظیموں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں وکلا کو فوری طور پر رہا کرکے ان کی سزائیں ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، انسانی حقوق کے دفاع سے متعلق سرگرمیوں کی بنیاد پر قائم مقدمات اور الزامات واپس لیے جائیں اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ اور پیکا سمیت متعلقہ قوانین کے استعمال کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔
عالمی تنظیموں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان میں وکلا کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض آزادانہ اور محفوظ ماحول میں انجام دینے کی ضمانت دی جائے۔ کسی غیر مقبول یا سیاسی طور پر حساس مؤکل کا دفاع کرنے والے وکیل کو اس کے مؤکل کے مؤقف سے منسلک کرکے انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
10 سال قید کی سزا کیسے سنائی گئی؟
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 29 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایک مقدمے میں مختلف دفعات کے تحت سزائیں سنائیں۔ جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں قائم عبوری عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے دونوں وکلا کو تین مختلف دفعات کے تحت قصوروار قرار دیا۔
انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7(h) کے تحت دونوں کو 10 سال سخت قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 186 کے تحت سرکاری ملازم کے فرائض میں رکاوٹ ڈالنے پر ایک سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 353 کے تحت سرکاری ملازم کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے کے لیے حملے یا طاقت کے استعمال کے الزام میں دو سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔
چونکہ تینوں سزائیں بیک وقت بھگتنے کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے دونوں وکلا کو مجموعی طور پر 10 سال قید اور فی کس دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
کرکٹ ٹیم کا راستہ، سیکیورٹی رکاوٹیں اور مقدمہ
اس مقدمے کی بنیاد اکتوبر 2024 میں انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ ہے۔ استغاثہ کے مطابق اسلام آباد میں کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے لیے مختص راستے پر نصب سیکیورٹی رکاوٹیں ہٹائی گئی تھیں اور ایمان مزاری و ہادی چٹھہ نے پولیس اہلکاروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنے میں کردار ادا کیا تھا۔
دونوں وکلا نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں انہیں سیکیورٹی انتظامات متاثر کرنے اور پولیس اہلکاروں کی سرکاری ذمہ داریوں میں رکاوٹ ڈالنے کا قصوروار قرار دیا۔ تاہم بین الاقوامی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ اس مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا استعمال اور عدالتی کارروائی کا طریقۂ کار کئی اہم قانونی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
پنجرے میں ملزمان، منصفانہ مقدمے پر عالمی تحفظات بین الاقوامی تنظیموں نے مقدمے کی سماعت کے طریقۂ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مشترکہ بیان کے مطابق اڈیالہ جیل میں قائم کمرۂ عدالت میں دونوں ملزمان کو پنجرے سے مشابہ ڈھانچے میں رکھا گیا، جس کے باعث انہیں اپنے وکلا سے مؤثر رابطے اور دفاع کی تیاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر یاسمین احمد نے ان سزاؤں کو پاکستانی نظامِ انصاف کے لیے ایک سنگین سوال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے میں صرف ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ہی آزمائش سے نہیں گزرے بلکہ عدلیہ کی انصاف اور منصفانہ ٹرائل کے اصول برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی امتحان میں تھی۔
اقوام متحدہ کے ایک ماہر نے بھی ان سزاؤں کی مذمت کی ہے۔
عالمی تنظیموں کے نزدیک کسی بھی مقدمے میں ملزمان کے بنیادی حقوق، آزادانہ دفاع اور منصفانہ عدالتی کارروائی کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، بالخصوص ایسے مقدمات میں جن کا تعلق انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار سے ہو۔
ایک مقدمہ ختم، دوسرا شروع؛ سزاؤں اور گرفتاریوں کا تسلسل
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف کارروائیوں کا معاملہ صرف اکتوبر 2026 کی سزا تک محدود نہیں۔ گزشتہ عرصے کے دوران دونوں مختلف مقدمات، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔
24 جنوری 2026 کو اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت سوشل میڈیا پر فوج پر تنقید اور بلوچ و پشتون کارکنوں سے اظہارِ یکجہتی سے متعلق پوسٹس کے مقدمے میں دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ایمان مزاری کے خلاف 2021 میں کی گئی سات ٹویٹس جبکہ ہادی چٹھہ کے خلاف انہی ٹویٹس کو دوبارہ شیئر کرنے کا معاملہ مقدمے کی بنیاد بنا۔
17 ستمبر 2026 کو سپریم کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے دونوں کی ضمانت پر رہائی کا حکم دیا، تاہم رہائی سے چند گھنٹے قبل ہی انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
29 اکتوبر کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سیکیورٹی رکاوٹوں کے مقدمے میں دونوں کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ 3 نومبر کو ایک اور انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 2025 کے احتجاج سے متعلق ایک مقدمے میں ان کی ضمانت منظور کر لی۔
دونوں وکلا نے تازہ سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی ہے، جس میں عدالتی کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دے کر سزائیں ختم کرنے اور ضمانت پر رہائی کی استدعا کی گئی ہے۔
فرنٹ لائن ڈیفنڈرز سمیت عالمی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ مختلف مقدمات میں مسلسل گرفتاریوں اور سزاؤں کا یہ سلسلہ دونوں وکلا کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ: وکالت کا پس منظر اور انسانی حقوق کی جدوجہد
ایمان زینب مزاری حاضر پاکستان میں انسانی حقوق کے مقدمات لڑنے والی نمایاں وکلا میں شمار ہوتی ہیں۔ 32 سالہ ایمان مزاری سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ہیں اور انہوں نے یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
وہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، غیر قانونی حراست اور پولیس تشدد کے متاثرین کی قانونی نمائندگی کے حوالے سے جانی جاتی ہیں۔ بلوچ طلبہ کے اغوا اور بلوچ حقوق کی کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت مختلف سیاسی اور انسانی حقوق کے مقدمات میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے۔
انہوں نے صحافیوں اور ایسے کارکنوں کے مقدمات بھی لڑے جنہیں ریاستی پالیسیوں پر تنقید کے باعث قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 2025 میں انہیں ورلڈ ایکسپریشن فورم کی جانب سے ینگ انسپیریشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ بھی فوجداری قانون کے ماہر وکیل ہیں۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز عاصمہ جہانگیر لیگل ایڈ سیل سے کیا اور جنسی تشدد کے متاثرین، جبری گمشدگیوں کے مقدمات اور سزائے موت کے قیدیوں کو قانونی معاونت فراہم کی۔
دونوں وکلا دسمبر 2023 میں ایک مشترکہ مؤکل کے مقدمے کے دوران ملے اور بعد ازاں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق مختلف مقدمات میں ایک ساتھ کام کرتے رہے۔
ان کی قانونی خدمات کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے 2026 کا اپنا ایوارڈ دونوں وکلا کو مشترکہ طور پر دیا، جو انسانی حقوق کے دفاع میں سرگرم افراد کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان میں صحافت، اظہارِ رائے اور شہری آزادیوں پر دباؤ
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کا مقدمہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران صحافیوں، سیاسی کارکنوں، وکلا اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کو مختلف قانونی اور انتظامی کارروائیوں کا سامنا رہا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھی ان دونوں وکلا کی سزاؤں کو پاکستان میں سول سوسائٹی کے خلاف بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کی علامت قرار دیا ہے۔
پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف کم از کم 31 فوجداری مقدمات درج کیے گئے، جن میں سے 14 پیکا ایکٹ کے تحت تھے۔ اسی عرصے میں نو صحافیوں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ جسمانی تشدد، بدسلوکی، دھمکیوں اور ہراسانی کے متعدد واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
فریڈم نیٹ ورک کی 2026 کی رپورٹ میں اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران صحافیوں کے خلاف 129 تصدیق شدہ خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں دو صحافیوں کے قتل، 58 قانونی مقدمات اور دو جبری اغوا کے واقعات شامل ہیں۔
پیکا قانون اور آزادیِ اظہار کا تنازع
2025 میں پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم کے بعد بھی اس قانون کے استعمال پر بحث جاری ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ جھوٹی اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام پر قانون کی بعض دفعات اظہارِ رائے کو محدود کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔
جنوری سے اگست 2025 کے دوران پیکا کے تحت 689 مقدمات درج کیے گئے، جن میں صحافیوں، وکلا اور سماجی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں بھی شامل تھیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی انسانی حقوق سے متعلق سالانہ رپورٹ میں بھی پاکستان میں سائبر کرائم اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے استعمال، گرفتاریوں، سنسرشپ اور بالخصوص بلوچستان میں انٹرنیٹ کی بندشوں پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
اسی طرح صحافیوں، سیاسی کارکنوں، وکلا اور سماجی کارکنوں کے خلاف قانونی و ادارہ جاتی کارروائیوں کے باعث شہری آزادیوں کی گنجائش محدود ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج، آزاد جموں و کشمیر میں احتجاجی سرگرمیوں کی کوریج پر پابندیوں اور طویل مواصلاتی بندشوں جیسے معاملات بھی ملک میں بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق بحث کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔
عالمی دباؤ اور پاکستان کے نظامِ انصاف کا امتحان
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف مقدمات اب محض دو وکلا کی قانونی مشکلات تک محدود نہیں رہے بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق سے متعلق عالمی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دونوں وکلا کو اپنی سالانہ عالمی مہم ’’رائٹ فار رائٹس‘‘ کا مرکزی کیس بنایا ہے، جبکہ 23 بین الاقوامی تنظیموں کا مشترکہ بیان اس معاملے پر عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
ان تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ان تمام وکلا سے بھی یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں جو انتقام کے خوف کے باوجود انسانی حقوق، قانون کی بالادستی اور بنیادی آزادیوں کے دفاع میں مصروف ہیں۔
دونوں وکلا کی اپیل اب اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ غور ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ نہ صرف ان کی قانونی اور ذاتی زندگی بلکہ پاکستان میں انسانی حقوق کے دفاع سے وابستہ وکلا کے مستقبل کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسدادِ دہشت گردی اور سائبر کرائم کے قوانین کا استعمال حقیقی جرائم کی روک تھام تک محدود رہے گا، یا ان قوانین کے دائرے میں ایسے افراد بھی آتے رہیں گے جو ریاستی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے اور شہری حقوق کا دفاع کرتے ہیں؟
اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا نظامِ انصاف ایسے مقدمات میں عالمی معیار کے منصفانہ ٹرائل، آزادانہ دفاع اور بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دے سکے گا؟
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزاؤں پر 23 عالمی تنظیموں کا احتجاج دراصل پاکستان کے لیے ایک وسیع تر سوال چھوڑ گیا ہے: کسی معاشرے میں قانون کی بالادستی کا معیار یہ نہیں کہ قانون کے تحت کتنے لوگوں کو سزا دی گئی، بلکہ یہ بھی ہے کہ قانون کے سامنے ہر شخص کو انصاف ملنے کی کتنی ضمانت حاصل ہے۔
