حمید سمسور
بلوچستان میں سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیشِ نظر پولیس ڈیپارٹمنٹ اور نادرا کے درمیان ڈیجیٹل شناخت اور بائیومیٹرک خدمات کے حصول کے لیے معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔
سنٹرل پولیس آفس کوئٹہ میں ہونے والی تقریب میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور ڈی جی نادرا سہیل جہانگیر سمیت دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔
تقریب میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت پولیس کو ملٹی بائیومیٹرک ویری فکیشن سسٹم، نادرا فارنزک ایکوزیشن ایپلی کیشن اور پاک آئی ڈی انٹرپرائز کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
ان نظاموں کے ذریعے شہریوں کی شناخت، فنگر پرنٹس اور چہرے کی تصدیق کے علاوہ جرائم کی تفتیش میں بھی مدد ملے گی، جس سے تحقیقات کا عمل بہت کم وقت میں مکمل ہو سکے گا۔
آئی جی پولیس نے مزید بتایا کہ اکثر وارداتوں کی تحقیقات میں ڈیجیٹل شناخت اور بائیومیٹرک تصدیق ایک لازمی اور اہم مرحلہ ہوتی ہے، جس کے بغیر کسی بھی کیس میں پیش رفت ممکن نہیں ہوتی۔
جرائم کی شرح پر کیا اثر ہوگا؟
کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور سیریس کرائم کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ بلوچستان میں بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان جرائم کی تحقیقات میں ڈیجیٹل اور بائیومیٹرک نظام کے استعمال سے ملزمان تک پہنچنے میں مؤثر مدد ملے گی۔
اس کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ جرائم میں ملوث افراد کو بہت کم وقت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں لایا جا سکے گا۔ اس سے بتدریج جرائم کی شرح میں کمی آنے کی توقع ہے۔
کوائف کا تحفظ اور رازداری
آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر اور ڈی جی نادرا سہیل جہانگیر نے بتایا کہ معاہدے کے تحت فراہم کی جانے والی سہولتوں کے استعمال کے دوران شہریوں کے کوائف کے تحفظ اور رازداری کو یقینی بنانے کے لیے سکیورٹی ضوابط کی پابندی بھی شامل ہے۔
