سمرقند (پاک ٹوڈے): افغانستان کے انٹیلی جنس سربراہ عبدالحق نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال کے ذریعے داعش کی سرگرمیوں میں اضافے کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر زہریلے مواد اور مہلک ہتھیاروں سے متعلق معلومات حاصل کر سکتی ہیں۔
ازبکستان کے شہر سمرقند میں سیکیورٹی امور سے متعلق ’’شنگھائی پلس‘‘ کے ماہرین کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے موجودہ دور میں داعش جیسے گروہ اس ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں سے بچنے کے طریقے تلاش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغان حکومت داعش کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاہم اس تنظیم کی تکنیکی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اسے متعدد مشکلات اور محدود وسائل کا سامنا ہے۔
عبدالحق وثیق نے ٹیلی گرام، ٹک ٹاک اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ داعش اپنے رابطوں، مالی معاونت اور نظریاتی تشہیر کے لیے ان پلیٹ فارمز کا استعمال کرتی ہے، لیکن یہ کمپنیاں افغانستان کے ساتھ تعاون نہیں کرتیں۔
