ریاض حسین
امریکہ کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے سے واشنگٹن کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی اور پاکستان کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات میں نئے چیلنجز پیدا ہونے کا امکان ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس میں مزید دو سال باقی ہیں، تاہم ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول کانگریس کی جانب سے ان کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر زیادہ کڑی نگرانی اور سوالات اٹھائے جانے کی توقع ہے۔ اس صورت حال کے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی اسلام آباد کی حالیہ کوششوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انتخابی نتائج کے بعد یہ سوال بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ پاکستان کے بہتر ہوتے تعلقات کس حد تک برقرار رہ سکیں گے، کیونکہ حالیہ عرصے میں ان تعلقات میں امریکی صدر اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ذاتی روابط کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔
روزنامہ ڈان نے 6 نومبر کو اپنے اداریے میں مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کو اپنی سفارتی حکمت عملی پر نظرثانی کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مضبوط ادارہ جاتی تعلقات استوار کرنے چاہئیں اور صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ ذاتی روابط پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔
سیاسی تبدیلی، لیکن تعلقات میں فوری بریک ڈاؤن کا امکان نہیں
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر عبدالشکور کا کہنا ہے کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ صدر ٹرمپ کے انتظامی اختیارات ختم ہو جائیں گے یا وہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو دیں گے۔
ان کے مطابق ڈیموکریٹس کانگریس کی مختلف کمیٹیوں میں حکومتی عہدیداروں کو طلب کر سکتے ہیں، تحقیقات شروع کر سکتے ہیں اور ٹرمپ کی داخلی و خارجہ پالیسیوں پر زیادہ سخت نگرانی کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض حکومتی اقدامات کے لیے فنڈز کی منظوری اور قانون سازی میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
تاہم صدر ٹرمپ اپنی صدارتی مدت کے باقی دو سال تک آئینی طور پر حاصل انتظامی اختیارات استعمال کرتے رہیں گے۔
پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالشکور نے کہا کہ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن حکومتوں کے درمیان تاریخی فرق کو مستقبل کے دوطرفہ تعلقات کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سرد جنگ اور افغان سوویت جنگ کے دوران پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مشترکہ اسٹریٹجک مفادات کے تحت مضبوط ہوئے تھے، تاہم اب علاقائی اور عالمی حالات میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہے۔
ان کے مطابق علاقائی سفارت کاری، سلامتی اور امریکہ و ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں ممکنہ سہولت کاری کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت برقرار رہے گی، چاہے واشنگٹن میں کانگریس یا وائٹ ہاؤس پر کسی بھی جماعت کا کنٹرول ہو۔
ڈاکٹر عبدالشکور نے تسلیم کیا کہ ٹرمپ کے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ ذاتی نوعیت کے گرم جوش تعلقات میں کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم ان کے خیال میں پاک امریکہ تعلقات میں کسی بڑی یا بنیادی تبدیلی کا امکان نہیں، کیونکہ یہ تعلقات اب بھی باہمی اسٹریٹجک مفادات اور علاقائی حقائق سے جڑے ہوئے ہیں۔
ڈیموکریٹس کا اثر و رسوخ اسلام آباد پر دباؤ بڑھا سکتا ہے
سینئر صحافی حق نواز خان کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کے پاکستان کی داخلی سیاست اور امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات پر بھی وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی اور خارجہ پالیسیوں سے عوامی عدم اطمینان کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت اہم عالمی خطوں میں امریکی پالیسیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
حق نواز خان کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاسی اور عسکری قیادت کے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے ہیں، تاہم واشنگٹن میں ڈیموکریٹس کا اثر و رسوخ بڑھنے سے پاکستان میں انسانی حقوق، جمہوری اداروں اور حزب اختلاف کے ساتھ حکومتی رویے پر بین الاقوامی نگرانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں اسلام آباد کو اپنی بعض سخت سیاسی پالیسیوں اور حزب اختلاف کے خلاف اختیار کیے گئے رویے پر نظرثانی کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن کی بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات مشرق وسطیٰ کے بارے میں امریکی پالیسی اور پاکستان افغانستان تعلقات سمیت خطے کی مجموعی صورت حال کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
پاکستان کو وسیع تر سفارتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت دونوں تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا لازمی مطلب پاک امریکہ تعلقات میں خرابی یا کسی بڑے بریک ڈاؤن کی صورت میں نہیں نکلتا، تاہم یہ صورت حال صرف شخصیات اور ذاتی روابط پر مبنی سفارت کاری کے خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔
پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسداد دہشت گردی، علاقائی سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری اور اہم معدنیات کے شعبوں میں مشترکہ مفادات موجود ہیں۔ تاہم نئے اقتصادی اور تجارتی معاہدوں کو کانگریس کی جانب سے زیادہ سخت جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کی امریکی سرمایہ کاری اور مالی معاونت کے حصول کی کوششیں بھی نئی سیاسی صورت حال سے متاثر ہو سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک کو سنگین معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد کے لیے یہ بھی ایک اہم چیلنج ہوگا کہ وہ امریکہ کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کے ساتھ چین کے ساتھ اپنی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری میں توازن برقرار رکھے۔
پاکستان کے لیے امریکہ میں بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال ایک چیلنج ہونے کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ مؤثر اور پائیدار بنانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ اسلام آباد کو صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ ذاتی روابط پر انحصار کرنے کے بجائے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں، امریکی کانگریس اور دیگر اہم حکومتی و پالیسی ساز اداروں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل سیاسی شخصیات سے زیادہ مشترکہ اسٹریٹجک مفادات، اقتصادی تعاون، جمہوری اصولوں اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل اور ادارہ جاتی سفارتی روابط پر منحصر ہوگا۔
