اسلام الدین ساجد
اسلام آباد (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وسط مدتی انتخابات میں سیاسی شکست اور ایران جنگ پر بڑھتے داخلی دباؤ کے بعد واشنگٹن نے تہران کے ساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں قطر کے بعد پاکستان کو بھی دوبارہ سفارتی عمل میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد نے امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی کوششیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کی شام ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں خطے کی تازہ صورتحال، علاقائی سلامتی اور امن کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے حالیہ علاقائی پیش رفت پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ اسحاق ڈار نے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام فریقوں سے تعمیری انداز میں سفارتی عمل میں شریک رہنے کی اپیل کی۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے فعال اور مسلسل سفارتی کوششوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
تاہم پاکستانی حکومت کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاک ٹوڈے کو بتایا کہ اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب کو امریکا کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا پیغام بھی پہنچایا ہے۔
عہدیدار کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ تہران مذاکرات کی میز پر واپس آئے اور دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔
ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے قطر کے ذریعے بھی ایران کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر تہران سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہ ہوا تو امریکا اور اسرائیل آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کر سکتے ہیں۔
اسحاق ڈار اور عباس عراقچی کے درمیان گفتگو کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے، تاہم امریکی پیغام اور مبینہ فوجی انتباہ کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
قطر کے بعد پاکستان بھی سفارتی کوششوں میں متحرک
پاکستانی عہدیدار کے مطابق واشنگٹن اس مرحلے پر ایران کے ساتھ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حالیہ انتخابی نتائج کے بعد داخلی سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی بحالی کے لیے سرگرم ہے، جبکہ اب پاکستان کو بھی دوبارہ اس سفارتی عمل میں شامل کیا گیا ہے۔
پاکستان اور قطر کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
اس سے ایک روز قبل، 4 نومبر کو ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی اسلام آباد میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی تھی۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ایران کے ساتھ قریبی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا۔
امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو دھچکا، ایران جنگ پر دباؤ بڑھ گیا
امریکا کے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی کامیابی اور کانگریس میں ریپبلکن پارٹی کو پہنچنے والے سیاسی نقصان کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنی خارجہ پالیسی، خصوصاً ایران جنگ، پر اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران جنگ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی مشکلات کی اہم وجوہات میں شامل رہی اور انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مبینہ طور پر صدر ٹرمپ پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو جلد از جلد مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جائے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وینس نے انتخابی شکست کے بعد ایران جنگ کو ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی نقصان کی ایک اہم وجہ قرار دیا اور کہا کہ جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ان کا پہلے دیا گیا مشورہ درست تھا۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نجی ملاقاتوں اور مشاورت کے دوران ٹرمپ کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔ وینس کو خدشہ تھا کہ ایران جنگ جاری رہنے سے ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق وینس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی ایران سے متعلق پالیسی پر بھی تحفظات ظاہر کیے اور ٹرمپ کو فوجی کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی حل تلاش کرنے کی ترغیب دی۔
انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اندر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کے حامیوں اور مذاکرات کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے حامیوں کے درمیان پالیسی اختلافات بھی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
ملیحہ لودھی: ٹرمپ کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہو گئی
پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا ملیحہ لودھی نے عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں شکست کے بعد صدر ٹرمپ کی مذاکراتی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور انہیں ایران جنگ کے معاملے پر ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول کانگریس کے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ملیحہ لودھی کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ امریکی ووٹرز نے کہا کہ ایران جنگ نے ان کے ووٹ دینے کے فیصلے کو متاثر کیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ امریکی عوام میں کتنی غیر مقبول ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پاس امریکی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اب بھی خاصے اختیارات موجود رہیں گے، تاہم انتخابی دھچکے کے بعد ان کے لیے فوجی کشیدگی بڑھانے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔
ملیحہ لودھی نے پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی نتائج سے فوری طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہونے کا امکان نہیں، تاہم پاکستان اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان حالیہ بہتری بڑی حد تک شخصی تعلقات پر مبنی رہی ہے، اس لیے امریکی صدر کی سیاسی کمزوری مستقبل میں ان تعلقات کے تسلسل کے حوالے سے سوالات پیدا کر سکتی ہے۔
کیا آئندہ ہفتے مذاکرات میں پیش رفت ممکن ہے؟
پاکستانی سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور دوحہ کی کوشش ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو اور فریقین کسی ایسے سمجھوتے تک پہنچیں جس سے خطے میں جنگ کو ختم کرنے اور دوبارہ پھیلنے کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان موجود ہے کہ آئندہ ہفتے مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار ایران کے جواب اور دونوں ممالک کی شرائط پر ہوگا۔
ایران کی جانب سے امریکی پیغام پر باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔ تہران امریکی انتخابی نتائج کو واشنگٹن کی داخلی سیاسی صورتحال کے تناظر میں دیکھ سکتا ہے، جس سے مذاکرات میں اس کا ممکنہ موقف اور شرائط بھی اہمیت اختیار کر جائیں گی۔
پاکستان کے لیے یہ سفارتی کوشش غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے اور مشرق وسطیٰ میں کسی نئی جنگ کے اثرات پاکستان کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا قطر اور پاکستان کی مشترکہ سفارتی کوششیں واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہوتی ہیں؟ اور کیا ٹرمپ انتخابی شکست کے بعد ایران کے ساتھ فوجی محاذ آرائی کے بجائے سفارتی سمجھوتے کو ترجیح دیں گے؟ آنے والے دنوں میں ایران کے ردعمل اور ممکنہ سفارتی رابطوں سے اس حوالے سے صورتحال واضح ہو سکتی ہے
