واشنگٹن (پاک ٹوڈے): امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس میں اپنے خلاف مواخذے کی کوششوں کا سامنا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ وہ پینٹاگون میں رہتے ہوئے اپنے مخالفین کی کوششوں کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے اسے جرات مندانہ اور تاریخی اقدام قرار دیا۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کو سیاسی نقصان اٹھانے کے بعد کانگریس میں ان کے مخالفین کی تنقید اور مواخذے کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیگسیتھ کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق سوالات مسترد کرتے ہوئے ان کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما حکیم جیفریز نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا ہے کہ پیٹ ہیگسیتھ اب تک اپنے عہدے پر کیوں موجود ہیں۔
ہیگسیتھ کو اپنی ری پبلکن پارٹی کے بعض ارکان کی مخالفت کا بھی سامنا ہے۔ کانگریس میں ان کے ناقدین ایران جنگ سے نمٹنے کے طریقۂ کار، اعلیٰ فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹانے اور قانون سازوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث ری پبلکنز کانگریس کا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔
دفاعی اخراجات کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 1.5 ٹریلین ڈالر کے پیکج کی کوششوں کے دوران بھی ہیگسیتھ اور کانگریس کے بعض ارکان کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
