یونیسف: دنیا بھر میں سالانہ 2 کروڑ بچے آن لائن جنسی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، رپورٹ

نیویارک (پاک ٹوڈے): اقوامِ متحدہ کے بچوں کے ادارے (یونیسف) نے ایک سنسنی خیز رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے 21 ممالک میں ایک سال کے دوران انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 2 کروڑ بچے آن لائن جنسی ہراسانی، استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوئے ہیں۔

یونیسف کے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ تحقیق ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقی یورپ کے 21 ممالک میں 12 سے 17 سال کی عمر کے 21 ہزار سے زائد بچوں پر کیے گئے سروے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ ممالک میں 20 فیصد سے زائد یعنی ہر 5 میں سے 1 بچے نے آن لائن جنسی ہراسانی کی کسی نہ کسی شکل کا سامنا کیا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ بچوں کو ان کی مرضی کے بغیر غیر اخلاقی مواد دکھایا گیا، جبکہ 90 لاکھ بچوں پر جنسی گفتگو اور تصاویر بھیجنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اور 40 لاکھ بچوں کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر آن لائن اپ لوڈ کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد کے قریب واقعات فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آئے، جبکہ 14 فیصد واقعات آن لائن گیمنگ کے دوران ہوئے ہیں۔

 

یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 1 فیصد سے بھی کم بچے ان مظالم کی شکایت پولیس یا امدادی اداروں کو کر پاتے ہیں اور اکثر خاموشی سے اس ذہنی اذیت کو سہتے ہیں۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے بچوں کی جعلی غیر اخلاقی تصاویر بنانے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے باعث متاثرہ بچوں میں خودکشی کے رجحانات اور شدید ذہنی تناؤ میں 4 گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

Related posts

اقوام متحدہ کے ماہرین کا بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار

امریکی بم معصوم خواتین اور بچوں کو ہلاک کر رہے ہیں، امریکی رکنِ کانگریس ڈیلیا رامیرز

امریکہ: منیسوٹا کے شہر منیاپولس میں اپارٹمنٹ بلڈنگ میں فائرنگ، 2 شہری اور حملہ آور ہلاک