سری نگر (پاک ٹوڈے): غیر قانونی طور پر بھارت میں قید کشمیری رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے سربراہ یاسین ملک نے عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کراتے ہوئے اپنا دفاع کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پھانسی کی سزا کے لیے تیار ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، یاسین ملک نے 1990ء کی دہائی کے آغاز میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 19 اپریل 1990ء کو پیش آنے والے اس واقعے کے وقت وہ 8 اپریل کو بھارتی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران شدید زخمی تھے، لہٰذا اس کیس میں ان کی شمولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یاسین ملک نے واضح کیا کہ وہ اس عدالت کا سامنا کریں گے اور نہ ہی رحم کی اپیل کریں گے۔ اگر عدالت انہیں پھانسی دینا چاہتی ہے تو اپنا فیصلہ سنا دے۔ واضح رہے کہ مئی 2022ء میں بھارتی تحقیقاتی ادارے NIA نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی، تاہم ادارے نے اب دہلی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر کے انہیں سزائے موت دینے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔
25 صفحات پر مشتمل قانونی عرضی میں یاسین ملک نے اپنی ذاتی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے اپنی اہلیہ مشعال ملک کو نکاح سے آزاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی اہلیہ ان کے غیر یقینی مستقبل، طویل قید یا متوقع بیوہ کی زندگی کا بوجھ اٹھائیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ سری نگر میں موجود اپنی دادی سے مسلسل رابطہ رکھے تاکہ ان کا آخری وقت تنہائی میں نہ گزرے۔