کابل (پاک ٹوڈے): افغانستان کی وزارتِ داخلہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے صوبہ بدخشان کے چند اضلاع اور ڈیورنڈ لائن کے قریبی علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز پیدا کرنے اور امن و امان کو غیر مستحکم کرنے کی بارہا کوششیں کی ہیں، جنہیں افغان فورسز نے کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانع نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فورسز نے ممکنہ خطرات اور منصوبوں کا بروقت سدِباب کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا ہے۔ ان کے بقول، ڈیورنڈ لائن کے قریب واقع علاقوں کے ساتھ ساتھ تاجکستان سے متصل بین الاقوامی سرحدوں پر اب سیکیورٹی کی صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور سرحدوں کے باقاعدہ انتظام و انصرام (بارڈر مینجمنٹ) کے لیے خاطر خواہ بجٹ اور وسائل صرف کیے جا رہے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کابل کسی بھی بیرونی عنصر کو افغانستان کی داخلی یا سرحد پار سیکیورٹی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا۔
یہ شدید بیانات دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری سفارتی اور سیکیورٹی کشیدگی کا تسلسل ہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اپناتے ہوئے عالمی اور علاقائی سطح پر احتجاج کرتا رہا ہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، افغان طالبان کی قائم کردہ عبوری حکومت پاکستان پر داعش (ISKP) اور دیگر مسلح گروپوں کی مبینہ معاونت کا جوابی الزام عائد کرتی ہے، جبکہ دونوں فریقین ان الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔