ہنگو: انٹیلی جنس آپریشن کے نام پر گھر کی مسماری، اجتماعى سزا کے حربوں پر سوالات برقرار

ہنگو (پاک ٹوڈے): ضلع ہنگو کے علاقے زرگری میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک مطلوب شخص عرفان کے گھر کو بارودی مواد سے مسمار کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعوٰی ہے کہ مذکورہ فرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور ڈی پی او خالد پر ہونے والے حملے میں پولیس کو مطلوب تھا۔

تاہم، ایک ہی فرد کے مبینہ جرائم کی بنیاد پر پورے گھر کو مسمار کرنے کے اس عمل نے ایک بار پھر آئینی، قانونی اور اخلاقی سوالات کو جنم دیا ہے۔ مقامی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ گھر میں صرف ایک فرد ہی رہائش پذیر نہیں تھا بلکہ دیگر بے گناہ افراد، خواتین اور بچے بھی مقیم تھے جن کا کسی جرم یا پرتشدد کارروائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

قانونی ماہرین کے مطابق کسی ایک فرد کے اقدام کی سزا پورے خاندان کو دینا اور انہیں چھت سے محروم کر دینا بنیادی انسانی حقوق اور ملک کے آئینی و قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔ اس طرح کی اجتماعی سزا کی حکمتِ عملی سے نہ صرف قانون کی بالادستی پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ مقامی آبادی میں عدم تحفظ اور ناانصافی کا احساس بھی شدت اختیار کرتا ہے۔

Related posts

اختیار ولی اور وفاقی وزراء پر شفیع جان کی سخت تنقید، 4 اکتوبر سے لانگ مارچ کا اعلان

نصیر آباد میں مسلح افراد کی ٹریلر اور باؤزر گاڑی پر فائرنگ، دونوں گاڑیاں نذرِ آتش

حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑی پیش رفت، تحریری معاہدے کا ڈرافٹ تیار ہونے لگا