بیجنگ (پاک ٹوڈے): چین نے اسٹریٹجک شعبوں سے وابستہ ماہر افرادی قوت، ٹیکنالوجی اور سرمائے کے بیرون ملک اخراج کو روکنے کے لیے اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ حکام کو انجینئروں، کمپنیوں کے بانیوں اور دیگر ماہرین کو صنعتی اور تکنیکی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے ملک چھوڑنے سے روکنے کا اختیار بھی حاصل ہوگیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین میں نئے ضوابط نافذ کیے گئے ہیں جن کے تحت حساس شعبوں سے وابستہ ماہرین کی بیرون ملک نقل و حرکت پر نگرانی بڑھائی جا رہی ہے۔ بیجنگ نے بیرون ملک سرمایہ کاری کے قواعد بھی سخت کیے ہیں اور تکنیکی عملے کی بیرون ملک تعیناتیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
سنگاپور مینجمنٹ یونیورسٹی کے قانون کے پروفیسر ہنری گاؤ کے مطابق یہ اقدامات چین کی معیشت، سرمایہ کے اخراج اور معاشی کمزوریوں سے متعلق بیجنگ کی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق افراد اور سرمائے کی بیرون ملک منتقلی مشکل بنانے سے مستقبل میں متبادل راستے تلاش کرنے کا رجحان بڑھ سکتا ہے۔
چین کی مصنوعی ذہانت کی اسٹارٹ اپ کمپنی Manus بھی حالیہ اقدامات کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ کمپنی کے دونوں چینی بانیوں نے گزشتہ برس اس کا ہیڈکوارٹر سنگاپور منتقل کیا تھا۔ بعد ازاں میٹا کی جانب سے تقریباً 2 ارب ڈالر میں Manus کو خریدنے کی کوشش کو بیجنگ نے روک دیا اور کمپنی کے بانیوں کو ملک چھوڑنے سے بھی منع کر دیا گیا۔
دوسری جانب بلومبرگ انٹیلیجنس کے اندازے کے مطابق گزشتہ سال تقریباً ایک ٹریلین ڈالر مالیت کی چینی دولت ملک سے باہر منتقل ہوئی، جو 2006 میں ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے ہاٹ منی کے سب سے بڑے اخراج میں شمار ہوتی ہے۔
چینی شہریوں کے لیے سالانہ 50 ہزار ڈالر تک زرمبادلہ بیرون ملک لے جانے کی حد برقرار ہے، تاہم فرانسیسی سرمایہ کاری بینک نیٹکس کی ایشیا پیسیفک چیف اکانومسٹ ایلیشیا گارشیا ہیریرو کے مطابق اس حد سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے غیر رسمی ذرائع کے خلاف کارروائی سخت کی جا رہی ہے۔
چین میں نئی پابندیوں کا دائرہ مصنوعی ذہانت کے شعبے تک بھی پہنچ گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق علی بابا اور DeepSeek جیسی کمپنیوں کے اعلیٰ اے آئی محققین، بانیوں اور انتظامی عہدیداروں کے لیے بیرون ملک سفر سے قبل اجازت لینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی نیوز ویب سائٹ دی انفارمیشن کے مطابق گزشتہ سال DeepSeek کے بعض ملازمین سے پاسپورٹ جمع کرانے کو بھی کہا گیا تھا، تاہم بیجنگ نے اس عمل کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی۔
ماہرین کے مطابق چین ایک جانب جدید مصنوعی ذہانت اور دیگر حساس ٹیکنالوجیز میں عالمی مسابقت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب حساس ٹیکنالوجی اور ماہر افرادی قوت کے بیرون ملک منتقل ہونے کے خطرے کو محدود کرنے کے لیے نگرانی اور سفری پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
