پشاور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیرصدارت پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے اجلاس میں لانگ مارچ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات بیک وقت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ اور پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
سی ایم ہاؤس پشاور میں ہونے والے اجلاس میں پی ٹی آئی کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، صوبائی صدر جنید اکبر خان، پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک اور صوبائی وزیر شفیع جان نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی ہوگا۔ شرکا نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم لانگ مارچ بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو لانگ مارچ کو صوابی کے مقام پر روکنے پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کی خواہش رکھتی ہے، تاہم فی الحال اس کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ جاری رہے گا، لیکن پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مذاکرات کے معاملے پر سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ ان کی جماعت سیاسی مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قوتیں ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں اور ان کی جماعت نے نو ماہ تک انتظار کیا ہے۔ ان کے مطابق بنیادی مطالبہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کی سہولت یقینی بنانا ہے، جسے وہ غیر آئینی یا غیر قانونی مطالبہ نہیں سمجھتے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتوں اور ججوں کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور ایمرجنسی یا گورنر راج کے ذریعے انہیں دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال آگے بڑھ چکی ہے اور اس پر ردعمل ان کی ذات کے بجائے عوام کی جانب سے سامنے آسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے علی امین گنڈاپور سے متعلق وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے اور انہوں نے ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے پارٹی میں اتحاد برقرار ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔
گورنر خیبر پختونخوا کے اجلاس پر تنقید کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے اسے غیر آئینی قرار دیا اور کہا کہ ان کی لڑائی ان لوگوں سے نہیں جو سامنے ہیں، بلکہ ان سے ہے جو ان کے بقول انہیں اقتدار میں لائے ہیں۔
صوبے میں ممکنہ فوجی آپریشن سے متعلق سوال پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر آپریشن کی بات کی گئی تو ان کا مؤقف ہوگا کہ فوجی آپریشن نہیں ہونا چاہیے۔
