پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے شرکا کو سکیورٹی فراہم کرنے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنانے کی درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
درخواست کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ شہریار آفریدی، شاندانہ گلزار اور آصف خان کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پشاور پہنچ رہا ہے، اس لیے شرکا کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔
درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ معظم بٹ نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار لانگ مارچ کے میزبان جبکہ مارچ کے شرکا ان کے مہمان ہوں گے، اس لیے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ انہیں مناسب سکیورٹی فراہم کرے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسی نوعیت کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں پہلے ہی نمٹائی جا چکی ہے، جس میں پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت فریق تھیں، لہٰذا موجودہ درخواست قابل سماعت نہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل نے استدعا کی کہ کم از کم عبوری ریلیف دیا جائے، لانگ مارچ کے شرکا کو ہراساں نہ کیا جائے اور ان کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ یقینی بنایا جائے۔
وکیل نے کیس کی حساسیت کے پیش نظر درخواست کی کہ سماعت کل تک ملتوی کرنے کے بجائے عدالتی وقفے کے بعد دوبارہ کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریق مخالف کو سنے بغیر کیس میں پیش رفت نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے عبوری ریلیف کے معاملے پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔