کابل/اسلام آباد (پاک ٹوڈے): اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرین نے انکشاف کیا ہے کہ جولائی 2026 کے ابتدائی 15 دنوں (1 سے 15 جولای) کے دوران 53 ہزار 565 افغان شہری پاکستان کے پانچ سرحدی راستوں سے اپنے وطن واپس لوٹ چکے ہیں۔
آئی او ایم کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق، جون کے دوسرے نصف کی نسبت جولائی کی اس پہلی پندرہواڑی میں افغان شہریوں کی رضاکارانہ واپسی کی شرح میں 37 فیصد جبکہ دباؤ یا بیدخلی کے واقعات میں 136 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 15 ستمبر 2023 سے 15 جولائی 2026 تک مجموعی طور پر تقریباً 26 لاکھ (2.6 ملین) افغان شہری پاکستان سے واپس افغانستان منتقل ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ پاکستان سے واپس جانے والے افغان باشندوں کی اکثریت شدید ذہنی و قانونی دباؤ میں ہے۔ رائے شماری میں حصہ لینے والے 96 فیصد افغان شہریوں نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں "گرفتاری اور حراست کے خوف” نے انہیں اپنا بوریا بستر سمیٹ کر فوری واپسی کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس سخت رویے اور افغان مہاجرین کی زبردستی بے دخلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، اقوامِ متحدہ کے اداروں اور بالخصوص انسانی حقوق کے فعال گروہوں کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے مقیم مہاجرین کے خلاف یکدم کریک ڈاؤن، حراست کا خوف اور جبری انخلا کی پالیسی بین الاقوامی قوانین اور انسانی قدروں کے منافی ہے۔ ناقدین کے مطابق، پاکستان کی اس اچانک اور سخت گیر پالیسی نے لاکھوں افراد کو، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، ایک غیر یقینی اور شدید معاشی و جانی خطرات سے دوچار مستقبل کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، جس سے پاکستان کے عالمی تاثر اور انسانی ہمدردی کے ریکارڈ کو زبردست دھچکا پہنچا ہے۔