پشاور(پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان بھر کے میڈیکل کالجز میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو ملک بدر کرنے اور ان کے داخلے منسوخ کرنے کے اقدامات کے خلاف اہم فیصلہ دیتے ہوئے کارروائی معطل کر دی ہے۔
مقدمے کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے کی۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل وسیم الدین خٹک ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے میڈیکل کالجز میں زیر تعلیم افغان طلبہ کے داخلے منسوخ کر دیے ہیں، جبکہ دوسری جانب متعلقہ حکام کی جانب سے پاکستان میں مقیم ان طلبہ کو ملک بدر (ڈی پورٹ) کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
وکیل نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ افغان طلبہ گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کے مختلف میڈیکل کالجز میں اپنی پیشہ ورانہ تعلیم انتہائی محنت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حساس تعلیمی مرحلے پر اچانک داخلے منسوخ کرنا اور ملک بدری کے نوٹس دینا طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلیمی روایات کے بھی منافی ہے۔
عدالتِ عالیہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد افغان طلبہ کی ملک بدری کے اقدام کو روک دیا اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل سمیت تمام متعلقہ فریقین کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے باقاعدہ جواب جمع کروائیں۔