پشاور (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے تھانہ بڈھ بیر کی پولیس کی حراست سے مبینہ طور پر فرار ہونے والے نوجوان عمیر خان کی ہلاکت پر ان کے والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے پولیس کا منصوبہ بندی شدہ قتل قرار دے دیا ہے۔ پشاور پریس کلب کے سامنے دہائی دیتے ہوئے مقتول نوجوان کے والد ملنگ خان اور والدہ نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ والدین کے مطابق، 22 روز قبل ایس ایچ او بڈھ بیر واجد خان عمیر خان کو صرف ایک دن کی تحقیقات کا کہہ کر گھر سے اٹھا کر لے گئے تھے، جہاں وہ بیمار حالت میں موجود تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس تمام عرصے کے دوران نہ تو اہل خانہ کو عمیر سے ملنے دیا گیا اور نہ ہی عدالتی بیلف کو اس تک رسائی دی گئی۔ والدین کے مطابق، پولیس نے پہلے یہ ڈرامہ رچایا کہ عمیر خان اسلحہ چھین کر اور پولیس اہلکار کو زخمی کر کے ہتھکڑیوں سمیت حراست سے بھاگ گیا ہے، جبکہ حقیقت میں اسے حراست کے دوران ہی قتل کر دیا گیا۔ والد ملنگ خان نے سوال اٹھایا کہ جو نوجوان مسلسل پولیس کی کسٹڈی میں اور ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، وہ کیسے کسی اہلکار پر حملہ آور ہو کر فرار ہو سکتا ہے؟ والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ان کے بیٹے کو سنیچر ثابت کرنے کی کوشش کی اور پھر حراست میں قتل کر کے فرار اور مقابلے کی جھوٹی داستان گھڑی۔ مقتول کے والدین نے سپریم کورٹ، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ بڈھ بیر کے ایس ایچ او اور ملوث اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔