اسلام آباد ( پاک ٹوڈے): ترجمان دفترِ خارجہ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاست کی سطح پر اور ادارہ جاتی تعلقات کے لیے تیار ہے، تاہم ان مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ ان کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف معتبر اور مؤثر اقدامات سامنے آئیں۔
ترجمان نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ دوحہ فریم ورک سمیت تمام بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے افغان ترجمان دفتر کی جانب سے پاکستان پر مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکمران، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت دیگر اسلام مخالف اور پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی یقینی بنائیں۔
دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان افغانستان کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات میں ٹھوس، عملی اور قابلِ اعتماد پیش رفت کو ہی اہمیت دیتا ہے اور بارڈر مینجمنٹ کے مؤثر انتظامات کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب افغان حکومت کئی مرتبہ اپنی سرزمین کو کسی اور ملک کے خلاف استعمال ہونے کو رد کرچکا ہے، افغان حکومت کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جو موجودہ افغان حکومت کی آمد سے دہائیوں پہلے سے چلا آ رہا ہے، مگر پاکستانی حکام، افغان حکومت کے اس موقف کو تسلیم نہیں کر رہے اور افغان عبوری حکومت کو تمام مسائل کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔