پاکستانی صحافیوں کو دھمکیاں اور قانونی دباؤ، اگست میں 8 سنگین واقعات ریکارڈ

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): فریڈم نیٹ ورک کے پاکستان پریس کلب سیفٹی ہبز نیٹ ورک نے اگست 2026 کے دوران پاکستان بھر میں صحافیوں کے خلاف دھمکیوں، حملوں اور قانونی کارروائیوں کے 8 سنگین واقعات دستاویزی طور پر ریکارڈ کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان واقعات میں صحافیوں کو قتل کی دھمکیوں، مسلح حملوں اور ریاستی قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رپورٹ ہوئے، جہاں صحافیوں کے خلاف 5 کیسز سامنے آئے، جبکہ اسلام آباد میں 2 اور خیبر پختونخوا میں ایک واقعہ ریکارڈ کیا گیا۔

فریڈم نیٹ ورک کے مطابق 8 میں سے 6 واقعات میں غیر ریاستی عناصر ملوث تھے، جبکہ 2 واقعات میں ریاستی اداروں کا کردار سامنے آیا۔

رپورٹ کے مطابق لاہور میں خبرین میڈیا گروپ کے ایڈیٹر طلال اشتیاق کو 10 اگست کو دورانِ ڈیوٹی فون پر قتل کی دھمکیاں دی گئیں۔ طلال اشتیاق نے پولیس کو واقعے کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے خلاف اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے ایک روز قبل، 9 اگست کو اسی میڈیا گروپ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر امتنان شاہد کو غیر ملکی نمبروں سے فون کالز کے ذریعے قتل کرنے، ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے اور دفتر کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ دھمکیاں ادارے کی انتظامیہ کے خلاف جاری آن لائن ہراسانی کی مہم کے بعد سامنے آئیں۔

فریڈم نیٹ ورک کے مطابق وہاڑی میں اردو پوائنٹ کے نامہ نگار انعام اللہ پر 22 اگست کو مسلح افراد نے ان کے گھر پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ ایک مزدور پر مبینہ پولیس تشدد سے متعلق رپورٹنگ کے بعد پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق مقامی افراد کی مداخلت پر حملہ آور فضائی فائرنگ کرتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے۔ انعام اللہ کو جون میں بھی اسی نوعیت کی رپورٹنگ کے باعث ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فریڈم نیٹ ورک کے مطابق اگست میں رپورٹ ہونے والے یہ واقعات پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات، آزادی اظہار اور ان کی ذاتی سلامتی کے حوالے سے سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔

Related posts

سابق وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ کی کیمرون او ریلی سے دوسری شادی

فی نسخہ 4 سے زائد ادویات اور بے جا اینٹی بائیوٹکس: پاکستان میں طبی شعبے کی تشویشناک صورتِ حال

ریاست مخالف بیانیے پر بلوچستان حکومت کی بڑی کارروائی، 100 سرکاری ملازمین برطرف