پشاور (کامران علی شاہ/پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے وکیل امیر اعجاز کی مبینہ گمشدگی کے خلاف انصاف لائرز فورم کے زیر اہتمام پشاور میں احتجاج کیا گیا، جس کے باعث خیبر روڈ تقریباً ایک گھنٹے تک ٹریفک کے لیے بند رہا۔
وکیل امیر اعجاز کے ساتھیوں کے مطابق وہ گزشتہ روز مردان سے صوابی جاتے ہوئے مبینہ طور پر لاپتہ ہوئے، جس کے بعد وکلا نے اسمبلی چوک پر احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرے میں بڑی تعداد میں وکلا نے شرکت کی اور امیر اعجاز کی مبینہ گمشدگی کے خلاف نعرے لگائے۔
انصاف لائرز فورم خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر علی زمان ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا کہ امیر اعجاز کو صوابی جاتے ہوئے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔
علی زمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلا دہشتگرد نہیں اور امیر اعجاز بھی کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمی شہریوں کا آئینی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ امیر اعجاز کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا اور مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ ملک بھر تک پھیلانے پر غور کیا جائے گا۔
احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما عرفان سلیم نے وکلا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور امیر اعجاز کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وکلا کو بھی مبینہ طور پر زبردستی اٹھایا جائے گا تو شہریوں کے تحفظ سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوں گے۔
عرفان سلیم نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے اور وکلا اس کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کے حق کے حوالے سے آئینی اصولوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
وکلا کے احتجاج کے باعث خیبر روڈ تقریباً ایک گھنٹے تک بند رہا۔ بعد ازاں انتظامیہ اور وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پر سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔
