پشاور (پاک ٹوڈے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں کے درمیان منافرت پیدا کرنے کے مبینہ حالیہ بیان کے خلاف پشاور کے تھانہ شرقی میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست جمع کرادی گئی۔
نور شیر خان ایڈووکیٹ ولد حاجی داد شیر خان، سکنہ پشاور، نے ایس ایچ او تھانہ شرقی پشاور کو باقاعدہ درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست گزار نے مریم نواز کے حالیہ بیان کو صوبائی تعصب، پاکستان کی سالمیت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تقدس کی پامالی قرار دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مورخہ 6 ستمبر 2025/2026 کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر، جبکہ خبر رساں ادارے انڈیپنڈنٹ اردو سمیت روزنامہ جنگ اور دنیا نیوز پر مریم نواز کی ایک ویڈیو دیکھی گئی، جس میں انہوں نے لاہور میں ایک سرکاری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کو پڑوسی ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی کا خطرہ ہے اور پنجاب کو پڑوسی ملکوں سے زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا مذکورہ بیان صریحاً صوبائی منافرت اور تعصب پر مبنی ہے اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہے، جو پاکستان کی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ مریم نواز کے بیان سے پاکستان کی اکائیوں کے درمیان نفرت، تقسیم اور بداعتمادی پیدا ہوئی ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان، جو خود کئی سالوں سے دہشت گردی کا شکار ہیں، کے عوام کی قربانیوں کی توہین ہوئی ہے۔
درخواست گزار کے مطابق مذکورہ بیان سے پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف عالمی مؤقف بھی کمزور ہوا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی بطور وزیراعلیٰ اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس بیان سے پاکستان کے شہداء، پاک فوج، پولیس، فرنٹیئر کور (ایف سی)، تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے تقدس کی بھی پامالی ہوئی ہے، کیونکہ دہشت گردی کا مقابلہ تمام صوبوں کے جوان مل کر کر رہے ہیں اور قوم اپنے جوانوں کی لازوال قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔
درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور درخواست گزار سمیت پاکستانی قوم کو انصاف فراہم کیا جائے۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود تمام متعلقہ مواد کو بھی تفتیش کا حصہ بنایا جائے اور عدالت کے سامنے تمام ثبوت اور حقائق بطور چالان پیش کیے جائیں۔
درخواست گزار نے مریم نواز کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 153-A، جو مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی اور نفرت کو فروغ دینے سے متعلق ہے، دفعہ 505، جو عوام میں اشتعال یا خوف پیدا کرنے والے بیانات سے متعلق ہے، اور دیگر قابلِ اطلاق قانونی دفعات سمیت آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کے تحت کارروائی کی اپیل کی ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مذکورہ بیان پر خیبرپختونخوا میں سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔