خیبرپختونخوا کی تقسیم کے خلاف اے این پی رکن اسمبلی نثار باز نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی۔

پشاور (پاک ٹوڈے) عوامی نیشنل پارٹی کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی نثار باز خان نے صوبے کی تقسیم کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرا دی، جس میں خیبرپختونخوا کی تقسیم کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے صوبے میں وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرارداد کے متن کے مطابق خیبرپختونخوا کو تقسیم کرنے کے بجائے صوبے میں وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر مکمل عملدرآمد، صوبائی فنانس کمیشن کے قیام اور بااختیار بلدیاتی حکومتوں کے نظام کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، تاکہ صوبائی وسائل اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جا سکیں۔

اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان نے قرارداد میں واضح کیا ہے کہ ہزارہ تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی اعتبار سے خیبرپختونخوا کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کے حوالے سے سامنے آنے والی کسی بھی کوشش کی مخالفت کی جائے گی اور خیبرپختونخوا کی وحدت کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

قرارداد میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل ایک کا حوالہ دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کی وفاقی اکائی کی حیثیت کو اجاگر کیا گیا ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ قرارداد کے مطابق مذکورہ آئینی شق کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی مخصوص آئینی منظوری ضروری ہے۔

قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انتظامی مسائل کا حل صوبے کی تقسیم نہیں بلکہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے میں ہے۔

اے این پی رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی تاریخی اور جغرافیائی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے صوبے کے تمام علاقوں کو یکساں ترقی کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

Related posts

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صحت کارڈ پلس سے متعلق اہم اجلاس، بڑی اصلاحات پر غور

پاکستان کا سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے عزم کا اعادہ

سرکاری وردی میں ملبوس مسلح افراد کا گھر پر چھاپہ، اہلخانہ یرغمال، 60 لاکھ روپے لوٹ کر فرار