پشاور (پاک ٹوڈے): بیرسٹر گوہر علی خان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کی حبسِ بے جا اور بازیابی سے متعلق کیس میں پشاور ہائیکورٹ پہنچ گئے۔
پشاور ہائیکورٹ نے کیس میں فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کر لیا، جبکہ مزید سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔ کیس کی سماعت جسٹس ارشد علی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس فرح جمشید بھی شامل تھیں۔
عدالت کے باہر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے کا چیف ایگزیکٹو لاپتہ ہے اور عدالتیں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مفلوج ہو چکی ہے۔
دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی۔ اس موقع پر بیرسٹر سمیر کھوسہ نے مؤقف اختیار کیا کہ حالات قابو سے باہر ہیں یا نہیں، اس کا تعین صوبائی حکومت کرے گی۔
سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اپنایا کہ صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی۔