وانا (پاک ٹوڈے): جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل شکئی کے علاقے سانگہ میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول کی عمارت طویل عرصے سے ٹوٹ پھوٹ اور خستہ حالی کا شکار ہے، تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
مقامی افراد کے مطابق سکول کی عمارت کی موجودہ صورتحال تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی سے متعلق حکومتی دعووں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ خستہ حال عمارت کی تصاویر سامنے آنے کے بعد والدین اور علاقہ مکینوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب تحصیل شکئی کے سرکاری سکولوں کی کارکردگی اور تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق مختلف دعوے کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب جی پی ایس سانگہ کی عمارت کی حالت انتہائی ابتر ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق بچوں کے لیے محفوظ اور مناسب تعلیمی ماحول کی فراہمی حکومت اور محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر مسرت زمان، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور محکمہ تعلیم کے دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سکول کی عمارت کا فوری معائنہ کرایا جائے۔
مقامی افراد نے مطالبہ کیا کہ عمارت کی ضروری مرمت اور بحالی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ کو محفوظ اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کیا جاسکے۔