مہنگی کھاد، بڑھتے اخراجات، نامناسب سرکاری قیمت اور غیر یقینی خریداری؛ گندم کے کاشتکار پریشان

تحریر: ریاض حسین

پشاور (پاک ٹوڈے): پاکستان کے کسانوں نے 2027 کے لیے گندم کی فی 40 کلوگرام 4,500 روپے کی اشاراتی قیمت پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاشت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مارکیٹ میں زیادہ قیمتوں اور سرکاری خریداری کی ضمانت نہ ہونے کے باعث کاشتکاروں کے لیے اپنی سرمایہ کاری واپس حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے، جس سے ملک کے غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے 23 اکتوبر کو گندم کی اشاراتی قیمت کا اعلان کیا، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,000 روپے فی 40 کلوگرام اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ، زراعت کو فروغ دینا اور گندم کی پیداوار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

تاہم خیبر پختونخوا کے کسانوں کا کہنا ہے کہ اعلان کردہ قیمت پیداواری اخراجات کی مناسب عکاسی نہیں کرتی۔ مقامی مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق صوبے میں گندم اس وقت تقریباً 6,000 روپے فی 40 کلوگرام فروخت ہو رہی ہے، جبکہ گندم کے بیج کی 50 کلوگرام بوری تقریباً 8,000 روپے میں دستیاب ہے۔

اس طرح گندم کی موجودہ مارکیٹ قیمت حکومت کی جانب سے 2027 کے لیے مقرر کردہ اشاراتی نرخ سے فی 40 کلوگرام 1,500 روپے زیادہ ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ آیا اعلان کردہ قیمت کاشتکاروں کو مناسب منافع دے سکے گی اور کیا خریدار اس نرخ پر گندم خریدنے کے پابند ہوں گے۔

خیبر پختونخوا میں پختونخوا کسان جرگہ کے کوآرڈینیٹر محمد علی ڈگئی وال نے کہا، ”ہم موجودہ کم قیمتوں کو مسترد کرتے ہیں اور ایک شفاف نظام کا مطالبہ کرتے ہیں جو اس بات کو یقینی بنائے کہ کسانوں کو اپنی فصلوں کی مناسب قیمت ملے۔“

انہوں نے فصلوں کی قیمتیں حقیقی پیداواری اخراجات کے مطابق مقرر کرنے کے لیے ایک آزاد فورم قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسان اپنی لاگت پوری کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ آڑھتی زرعی پیداوار سے منافع کما رہے ہیں۔

ڈگئی وال نے خبردار کیا کہ مسلسل مالی نقصانات کے باعث کسان کاشت کاری چھوڑنے یا اپنی زرخیز زرعی زمین ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے ملک کی زرعی بنیاد اور طویل مدتی غذائی تحفظ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

کسان نور بادشاہ کے مطابق ایک ایکڑ پر گندم کی کاشت کی تیاری اور بوائی پر تقریباً 60,000 روپے خرچ آتا ہے، جس میں بیج، کھاد، ہل چلانے، آبپاشی اور پانی دینے کے لیے بجلی کے اخراجات شامل ہیں۔

بادشاہ نے بتایا کہ ڈی اے پی کھاد کی ایک بوری تقریباً 17,500 روپے، پوٹاشیم کھاد 8,000 روپے اور یوریا 4,000 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ ایک ایکڑ پر ہل چلانے کا خرچ تقریباً 8,000 روپے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فصل کی پیداوار کم ہو یا زرعی مداخل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے تو کسانوں کے لیے اپنی سرمایہ کاری واپس حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو گندم کی قیمت مقرر کرتے وقت کاشت کے حقیقی اخراجات کا جائزہ لینا چاہیے۔

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کو گندم کی پیداوار، درآمدات کی ضروریات اور کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے آٹے کی استطاعت کے حوالے سے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔

پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق 2025-26 کے فصل سیزن میں گندم کی پیداوار تقریباً 29.61 ملین ٹن رہی، جبکہ حکومت کا ہدف 29.68 ملین ٹن تھا۔ اس سے قبل 2024-25 میں پیداوار تقریباً 28.42 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس طرح پیداوار میں بہتری کے باوجود ملک میں گندم کی مناسب فراہمی برقرار رکھنے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے 2025-26 کے مارکیٹنگ سال کے لیے پاکستان کی گندم درآمد کرنے کی ضرورت تقریباً 1.1 ملین ٹن بتائی تھی، جبکہ 2024-25 کے دوران درآمدات کا تخمینہ تقریباً ایک لاکھ ٹن تھا۔ ستمبر 2026 میں وفاقی حکومت نے 2026-27 کے فوڈ ایئر کے لیے 750,000 ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری بھی دی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر ملکی پیداوار، درآمدات اور سرکاری خریداری کی پالیسیوں میں توازن قائم کرنا ضروری ہے۔

دریں اثنا، خوراک کی استطاعت بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق 22 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں قلیل مدتی مہنگائی کی سالانہ شرح 11.85 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 0.65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس دوران گندم کے آٹے کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

شہری منڈیوں میں آٹے کی قیمت مبینہ طور پر 160 سے 190 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے، جس سے پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے کم آمدنی والے گھرانوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ سندھ میں صوبائی حکومت نے آٹے کی قیمتوں کو مستحکم کرنے اور دستیابی یقینی بنانے کے لیے سرکاری ذخائر سے گندم 100 کلوگرام کی بوری 12,500 روپے، یعنی 40 کلوگرام کے حساب سے 5,000 روپے، میں جاری کرنا شروع کر دی ہے۔

پاکستان کو درپیش غذائی تحفظ کے وسیع تر چیلنجز 2026 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں بھی نظر آتے ہیں، جس میں ملک کو کافی ڈیٹا رکھنے والے 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس کا اسکور 25.5 ہے، جو بھوک کی سنگین سطح میں شمار ہوتا ہے۔ یہ انڈیکس صرف گندم کی دستیابی کے بجائے غذائیت اور ناکافی خوراک کے وسیع تر اشاریوں کو ماپتا ہے۔

اپریل 2025 سے بڑے پیمانے پر سرکاری گندم خریداری کے نظام سے حکومت کی دوری نے بھی کسانوں کے خدشات میں اضافہ کیا ہے کہ آیا اشاراتی قیمت انہیں عملی طور پر مناسب معاوضہ دے سکے گی یا نہیں۔ پنجاب میں بینکوں کی معاونت سے نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے خریداری بحال کرنے کی ایک کوشش کے دوران مبینہ طور پر 25 لاکھ ٹن کے ہدف کے مقابلے میں صرف ایک لاکھ 60 ہزار ٹن گندم خریدی جا سکی۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ خریدار کی نشاندہی اور مؤثر خریداری کے نظام کے بغیر قیمت کا اعلان کاشتکاروں کو وہ یقین دہانی فراہم نہیں کر سکتا جس کی انہیں گندم کی کاشت اور سرمایہ کاری کے فیصلے کرتے وقت ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ واضح کرے کہ گندم کون سا ادارہ یا نظام خریدے گا، خریداری کے لیے مالی وسائل کیسے فراہم کیے جائیں گے اور کھاد، ایندھن، آبپاشی اور دیگر زرعی مداخل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

کسانوں نے 2026-27 کے مارکیٹنگ سال کے لیے گندم کی پیداوار اور درآمدات کے واضح اہداف جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملکی پیداوار اور درآمدی ضروریات کے شفاف تخمینے کسانوں، تاجروں اور فلور مل مالکان کو مستقبل کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ کسانوں کو ناقابل برداشت پیداواری اخراجات سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ صارفین کے لیے آٹے کو بھی سستا اور قابلِ خرید رکھا جائے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ مؤثر خریداری کے انتظامات اور زرعی مداخل کی لاگت میں کمی کے ساتھ ایک قابلِ اعتماد قیمتوں کا نظام ملکی گندم کی پیداوار برقرار رکھنے اور پاکستان کے غذائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

Related posts

لاہور میں زہریلی اسموگ کی واپسی، شہریوں کو ایک بار پھر فضائی آلودگی کا خدشہ

پشاور میں یکم نومبر سے غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کے خلاف آپریشن کی تیاری، 120 ٹیمیں تشکیل

رواں سال شدت پسندوں کے حملوں میں 3500 پاکستانی شہری نشانہ بنے، ترجمان دفتر خارجہ