اسلام الدین ساجد کی رپورٹ
اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں اکتوبر کے دوران اسموگ اور فضائی آلودگی میں دوبارہ اضافہ ہونے لگا ہے، جس سے شہریوں کو گزشتہ برسوں کی طرح موسمِ سرما میں زہریلی فضا اور سانس کی بیماریوں کا سامنا کرنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں اسموگ ایک بار پھر سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن رہی ہے۔ اگرچہ رواں سال ستمبر اور اکتوبر میں فضائی آلودگی کی اوسط سطح گزشتہ بعض برسوں کے مقابلے میں بہتر رہی، تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ موسم سرد ہونے کے ساتھ صورتِ حال دوبارہ خراب ہو سکتی ہے۔
لاہور کے مقامی رہائشی اسد قریشی نے پاک ٹوڈے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر میں اسموگ کی واپسی تشویش ناک ہے اور شہر میں اس کے ابتدائی آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اسموگ اکتوبر میں ہی واپس آ گئی ہے۔ ابھی اس کی شدت بارشوں کی وجہ سے کم ہے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس سال بھی ہمیں گزشتہ برس جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘
پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اور آئی کیو ایئر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال ستمبر اور اکتوبر کے دوران لاہور میں فضائی آلودگی کی اوسط سطح گزشتہ دو برسوں کے بعض ادوار کے مقابلے میں بہتر رہی۔
رپورٹ کے مطابق، ستمبر میں اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) تقریباً 99، جبکہ اکتوبر میں اب تک تقریباً 109 رہا۔ تاہم اکتوبر کے دوسرے نصف میں آلودگی میں دوبارہ اضافہ ہوا اور 17 سے 21 اکتوبر کے دوران مختلف اوقات میں اے کیو آئی 229 سے 290 تک ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق، موسمِ سرما میں درجہ حرارت میں کمی، ہوا کی رفتار کم ہونے اور فضا میں درجہ حرارت کی الٹی تہہ بننے سے آلودہ ذرات زمین کے قریب جمع ہو جاتے ہیں۔ اسموگ عموماً اکتوبر سے فروری تک زیادہ شدید رہتی ہے، جبکہ بارش اور تیز ہوائیں عارضی طور پر فضائی آلودگی کم کر سکتی ہیں۔
حکومت اسموگ کی روک تھام کے لیے کیا کر رہی ہے؟
پنجاب حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں اینٹوں کے بھٹوں میں ماحول دوست زگ زیگ ٹیکنالوجی کا استعمال، صنعتی یونٹوں کی نگرانی اور معائنہ، گاڑیوں کے دھویں کی جانچ اور اسموگ گنز کا استعمال شامل ہے۔
حکومت نے فضائی آلودگی میں کمی کے لیے عالمی بینک کی مالی معاونت سے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔ تاہم ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پالیسیوں کے مؤثر نتائج کے لیے مسلسل نگرانی، قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور گاڑیوں، صنعتوں اور اینٹوں کے بھٹوں سے نکلنے والے دھویں کو کم کرنا ضروری ہے۔
پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ لاہور دوبارہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست آ سکتا ہے۔ انہوں نے اس خطرے کے حوالے سے پڑوسی ممالک سے آنے والی آلودہ ہوا کا ذکر کیا، تاہم ماہرین کے مطابق مقامی ذرائع، خصوصاً ٹریفک، صنعتی اخراج اور اینٹوں کے بھٹے بھی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں۔
گزشتہ سال لاہور عالمی درجہ بندی میں کہاں تھا؟
لاہور گزشتہ برس بھی اسموگ کے موسم میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا اور بعض اوقات آئی کیو ایئر کی براہِ راست درجہ بندی میں پہلے نمبر پر پہنچا۔ تاہم یہ درجہ بندی روزانہ اور گھنٹہ وار فضائی معیار کے مطابق بدلتی رہتی ہے، اس لیے کسی ایک وقت کی پوزیشن کو پورے سال کی درجہ بندی نہیں سمجھنا چاہیے۔
رواں سال بھی لاہور کے دوبارہ عالمی درجہ بندی میں سرفہرست آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم 2026 کے لیے پورے سال یا اسموگ کے مکمل موسم کی حتمی پوزیشن ابھی متعین نہیں کی جا سکتی، کیونکہ موسم اور آلودگی کی سطح میں مسلسل تبدیلی آتی رہتی ہے۔
صحت کے لیے خطرہ
اسموگ میں موجود باریک آلودہ ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، پھیپھڑوں میں گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں اور سانس کی بیماریوں، دمے، دل کے امراض اور دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اسماء چوہدری کے مطابق، اسموگ کے دوران لوگوں کو بہت احتیاط اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے بچے، بزرگ، حاملہ خواتین اور پہلے سے سانس یا دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ آلودگی کی سطح زیادہ ہونے پر غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، بیرونی جسمانی سرگرمیاں محدود رکھیں اور سرکاری فضائی معیار کی تازہ صورتِ حال پر نظر رکھیں۔