مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ڈرون کی پرواز، بیٹے کا سخت ردعمل سامنے آگیا

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ کے قریب ڈرون کی پرواز اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے واقعے پر ان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں مولانا اسجد محمود نے الزام عائد کیا کہ اس کارروائی کے ذریعے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو فراموش نہیں کیا جائے گا اور اس کا ہر سطح پر حساب لیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ رات گئے اسلام آباد پولیس کے اہلکار مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر آئے اور ایک ویڈیو دکھائی، جس میں مبینہ طور پر چند افراد کو گلی کے آغاز میں کھڑے ہو کر اندر آنے والوں سے شناخت پوچھتے اور خود کو مولانا فضل الرحمان کے اہلکار ظاہر کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تاہم، ان کے مطابق پولیس کی جانب سے دکھائی گئی ویڈیو ان کی گلی کی نہیں تھی۔

مولانا اسجد محمود نے الزام لگایا کہ رات گئے پولیس کا گھر پہنچنا، مبینہ طور پر غیر متعلقہ ویڈیو دکھا کر اہل خانہ کو ہراساں کرنا اور سکیورٹی ہٹانے کے احکامات دینا ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے اس کارروائی کا حکم کس نے دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کے اہل خانہ کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر آئندہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات جے یو آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

Related posts

پنجاب میں کرپشن ہو رہی ہے، اپنے بیان پر قائم ہوں، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک اور مقدمے میں ضمانت منظور

جے یو آئی (ف) کی ملک گیر احتجاجی تیاریوں کی ہدایت، مولانا فضل الرحمان کے احکامات پر تنظیمیں فعال کرنے کا فیصلہ