اسلام آباد (پاک ٹوڈے): معروف صحافی بلال غوری اسلام آباد کے سیکٹر ای 11/4 میں واقع اپنی رہائش گاہ سے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر دعویٰ کیا ہے کہ بلال غوری رات دو بجے سے لاپتہ ہیں۔
عمر چیمہ کے مطابق بلال غوری نے اپنی رہائش گاہ کی زیریں منزل کو دفتر کے طور پر مختص کر رکھا تھا، جبکہ وہ بالائی منزل پر رہائش پذیر تھے۔ اہلِ خانہ کو ان کے لاپتہ ہونے کا علم اس وقت ہوا جب وہ گراؤنڈ فلور پر موجود نہیں تھے۔
مذکورہ دعوے کے مطابق بلال غوری اپنا چشمہ اور بٹوہ گھر پر چھوڑ گئے، جبکہ تاحال ان کے موبائل فون یا انہیں اپنے ساتھ لے جانے والے کسی شخص کے بارے میں معلومات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں نے واقعے کے بعد شالیمار تھانے سے رجوع کرتے ہوئے بلال غوری کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی ہے۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات کے مطابق تاحال مقدمہ یا گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کی گئی۔
واقعے کے بعد بلال غوری کے اہلِ خانہ میں تشویش پائی جا رہی ہے اور انہوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ صحافی کی تلاش کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
بلال غوری کو فوج اور اداروں کے ناقد کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور ان کے لاپتہ ہونے کا شک بھی انہی پر کیا جا رہا ہے۔ صحافیوں، صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں نے ریاست اور اس کے انتظامی ڈھانچے پر زور دیا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت اقدامات جیسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو فوراً روکے۔ خبر نگاروں کا کہنا ہے کہ تنقیدی آوازوں کو دبانے، اغوا کرنے یا ڈرانے دھمکانے کی پالیسی کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ آئین پاکستان میں دیے گئے اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو براہ راست مفلوج کر رہی ہے۔