اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (پی اے اے) نے قومی ایئرلائن (پی آئی اے) پر پروازوں کی آمد کے بعد مسافروں کو سامان کی ترسیل میں غیر معمولی تاخیر اور گراؤنڈ ہینڈلنگ کی ناکامی پر ایک کروڑ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
پاک ٹوڈے کو موصول ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق پی آئی اے کو پروازوں کی آمد کے بعد مسافروں کو سامان کی فراہمی میں مسلسل تاخیر اور آپریشنل بے ضابطگیوں پر یہ سزا سنائی گئی ہے۔ اتھارٹی کی جانب سے قومی ایئرلائن کو 25 ستمبر تک تمام واجبات ادا کرنے کا حتمی حکم دیا گیا تھا، تاہم انتباہ کے باوجود پی آئی اے مقررہ مدت میں رقم جمع کروانے میں ناکام رہی اور اب اس رقم کو کم یا معاف کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
دستاویزات کے مطابق سب سے زیادہ جرمانہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر انتظامی اور آپریشنل خامیوں کی بنیاد پر عائد کیا گیا، جو 70 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ دوسری جانب لاہور ایئرپورٹ پر مسافروں کو درپیش مشکلات اور سامان کی وقت پر عدم فراہمی پر 14 لاکھ 85 ہزار روپے سے زائد کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے سامان کی ترسیل میں تاخیر کا تمام تر ملبہ خود پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے بنیادی ڈھانچے پر ڈال دیا ہے۔ پی آئی اے کے جی ایم ٹریفک طارق مجید کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ناکافی سکینرز اور کنویئر بیلٹس کی خرابی کے باعث سامان کی منتقلی میں تاخیر پیش آتی ہے، جبکہ بیک وقت متعدد پروازوں کی لینڈنگ سے بھی نظام پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے اس حوالے سے پاک ٹوڈے کو بتایا کہ ایئرپورٹس اتھارٹی کی آپریشنل صلاحیت میں کمی کی وجہ سے یہ مسائل جنم لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے جرمانوں کا سامنا دیگر ایئرلائنز کو بھی کرنا پڑتا ہے اور یہ ایک معمول کا انتظامی طریقہ کار ہے۔ ترجمان کے مطابق اس معاملے کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور جرمانے کو معاف یا کم کروانے کے لیے ایئرپورٹس اتھارٹی سے مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔
