مذاکرات میں پھر ڈیڈ لاک، لانگ مارچ کی منسوخی عمران خان سے ملاقات سے مشروط

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں بعض معاملات پر پیش رفت کے باوجود لانگ مارچ ختم کرنے کے معاملے پر دوبارہ ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات کرانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ 3 ایم پی او کے تحت گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں سمیت بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی رہائی کے معاملے پر بھی اتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ مذاکرات میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ خیبرپختونخوا حکومت شدت پسندی کے معاملے کو سیاسی طور پر استعمال نہیں کرے گی۔

ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطہ کرکے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ سے متعلق کوئی حتمی اعلان یا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

محمود اچکزئی کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی عمران خان سے ملاقات کے لیے بھیجا جائے تاکہ وہ بانی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی صورتحال سے آگاہ کریں اور اس کے بعد عمران خان جو فیصلہ کریں، اپوزیشن کو اس کے مطابق آگے بڑھنا چاہیے۔

ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر نے محمود اچکزئی کو اب تک ہونے والی بات چیت سے آگاہ کردیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک سے بھی اپوزیشن ارکان نے رابطہ کیا اور انہیں مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ مذاکرات کو آگے بڑھانے سے قبل لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کیا جائے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مطالبات پر پیش رفت کے بعد ہی لانگ مارچ کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے۔

مذاکرات میں شریک حکومتی رکن امیر مقام کے مطابق حکومت نے گزشتہ روز بھی لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت نے اپوزیشن وفد کے اختیار پر سوال اٹھایا۔ اپوزیشن ارکان نے بھی خواجہ آصف کے ایک بیان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھی لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مذاکرات کا دوسرا دور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، جس میں حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

Related posts

جنوبی وزیرستان، ڈی آئی خان، ہنگو اور ٹانک میں 3 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ، مختلف علاقوں میں کرفیو

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات میں نئی رکاوٹ، لانگ مارچ ختم کرنے کے معاملے پر اختلاف

اختیار ولی اور وفاقی وزراء پر شفیع جان کی سخت تنقید، 4 اکتوبر سے لانگ مارچ کا اعلان