واشنگٹن (پاک ٹوڈے): دنیا بھر میں معیاری وقت کے نظام میں اہم تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت مئی 2027 سے لیپ سیکنڈ کا نظام ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد ڈیجیٹل نظام، نیوی گیشن، ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سرورز کو وقت میں اچانک ایک سیکنڈ کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے تکنیکی مسائل سے محفوظ رکھنا ہے۔
عالمی ادارہ برائے اوزان و پیمائش کے زیرِ اہتمام 15 اکتوبر کو ہونے والی کانفرنس میں 69 رکن ممالک نے متفقہ طور پر لیپ سیکنڈ ختم کرنے کی منظوری دی۔ یہ نظام کئی دہائیوں سے عالمی معیاری وقت کو زمین کی قدرتی گردش کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
دنیا بھر میں معیاری وقت کے لیے کوآرڈینیٹڈ یونیورسل ٹائم (UTC) رائج ہے، جس کا حساب جوہری گھڑیوں کی مدد سے رکھا جاتا ہے۔ تاہم، زمین کی گردش کی رفتار مستقل نہیں رہتی، جس کے باعث جوہری گھڑیوں کے وقت اور زمین کی گردش میں فرق پیدا ہوتا رہتا ہے۔
اس فرق کو کم کرنے کے لیے 1972 سے اب تک عالمی گھڑیوں میں 27 مرتبہ ایک ایک سیکنڈ کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔ اس اضافی سیکنڈ کو لیپ سیکنڈ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی عام زندگی میں محسوس نہیں ہوتی، لیکن جدید ڈیجیٹل نظاموں کے لیے وقت میں اچانک ردوبدل تکنیکی پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
حالیہ برسوں میں زمین کی گردش کی رفتار میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں منفی لیپ سیکنڈ کی ضرورت کا امکان بھی سامنے آیا تھا۔ اس صورت میں گھڑیوں سے ایک سیکنڈ منہا کرنا پڑتا، جس کے لیے تیار نہ ہونے والے بعض کمپیوٹر سسٹمز میں خرابیاں پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ لیپ سیکنڈ ختم کرنے کے فیصلے کا ایک بنیادی مقصد ایسے ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
نئے نظام کے تحت عالمی معیاری وقت اور زمین کی گردش کے درمیان فرق کو ہر چند سال بعد ایک سیکنڈ کی تبدیلی کے ذریعے درست کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ اس فرق کو وقت کے ساتھ بڑھنے دیا جائے گا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ حد ایک گھنٹہ مقرر کی گئی ہے، جس تک پہنچنے میں کئی صدیاں یا اس سے بھی زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے۔
اس تبدیلی سے وقت کے عالمی نظام کو جدید ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مستحکم بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے، جبکہ زمین کی گردش اور جوہری گھڑیوں کے وقت کے درمیان فرق کو سنبھالنے کے لیے طویل مدتی طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔