لاہور (پاک ٹوڈے): لاہور ہائی کورٹ نے قومی کرکٹر محمد رضوان کے خلاف آن لائن بیٹنگ اور جوئے سے متعلق جاری انکوائری روکنے کی درخواست پر اپنا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نے انکوائری کو قانون کے مطابق جاری رکھنے کی اجازت دیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو ہدایت کی ہے کہ تفتیش کے دوران کھلاڑی کو غیر ضروری زحمت یا ہراساں نہ کیا جائے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ NCCIA فی الوقت پیکا ایکٹ 2016 کی دفعہ 14 کے تحت سائبر پٹرولنگ سے حاصل ہونے والے مواد کی بنیاد پر انکوائری کر رہی ہے۔ عدالت کے مطابق اس ابتدائی مرحلے پر تفتیشی ادارے کے دائرہ اختیار میں مداخلت کرنا مناسب نہیں، کیونکہ انکوائری کا بنیادی مقصد کھیل میں کرپشن کے عناصر کی نشاندہی اور سدباب ہے۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا اینٹی کرپشن کوڈ ریاستی قوانین یا فوجداری کارروائی کی اہمیت کو ختم نہیں کرتا۔ آئی سی سی کا اپنا فریم ورک بھی متعلقہ ریگولیٹری اور فوجداری اداروں کے ساتھ تعاون کی تاکید کرتا ہے، اس لیے آئی سی سی قوانین کی موجودگی کسی قانونی تفتیش کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ صرف ‘کال اپ نوٹس’ جاری ہونے سے کسی شخص پر جرم ثابت یا عائد نہیں ہوتا۔ NCCIA کی موجودہ کارروائی نہ تو بدنیتی پر مبنی ہے اور نہ ہی اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر انکوائری کے حتمی نتیجے پر محمد رضوان کو کوئی تحفظات ہوں تو وہ قانون کے مطابق داد رسی حاصل کرنے کے مجاز ہیں۔ علاوہ ازیں، تفتیش کے دوران ضبط کی گئی کسی بھی شے کی واپسی کے لیے کھلاڑی متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔
عدالت نے قومی کرکٹر کو تفتیش میں مکمل تعاون اور این سی سی آئی اے کو کارروائی صرف قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
