پیرس (پاک ٹوڈے): فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سماجی عدم مساوات کے خلاف ملک گیر احتجاج پُرتشدد صورت اختیار کر گیا، جس کے بعد دارالحکومت پیرس سمیت مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے دوران فرانسیسی حکام کے مطابق 1200 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مظاہروں کے دوران متعدد سڑکوں، دکانوں اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پیرس کے ڈپٹی میئر ایمانوئل گریگوائر کا کہنا ہے کہ شہر کی کئی سڑکیں تباہی کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں نقاب پوش نوجوانوں نے گاڑیوں کو آگ لگائی اور دکانوں کے شیشے توڑ کر سامان لوٹ لیا۔
فرانسیسی وزیراعظم سباستیاں لیکورنو نے تشدد کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی سطح پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے باوجود جانی نقصان کا زیادہ نہ ہونا خوش قسمتی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ 50 ہزار افراد شریک ہوئے، جبکہ احتجاج کی کال دینے والی یونین سی جی ٹی نے شرکا کی تعداد آٹھ لاکھ بتائی۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بعض مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور آتش بازی کی، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
جنوبی شہر سینٹ ایٹیینے میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کیے گئے ایک گرینیڈ کی زد میں آنے سے 17 سالہ لڑکے کا دایاں ہاتھ ضائع ہونے کی اطلاع ہے۔
پیرس میں مظاہروں کے دوران نقاب اور دستانے پہنے افراد کے منظم گروہوں نے مبینہ طور پر سکیورٹی کیمروں کو ناکارہ بنانے کے بعد دکانوں کے شیشے توڑے اور سپر مارکیٹوں، فارمیسیوں، ملبوسات کی دکانوں اور الیکٹرانکس کے شورومز سے سامان لوٹا۔ سرکاری عمارتیں بھی حملوں سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
لیموژ شہر کا 140 سال سے زائد قدیم ٹاؤن ہال آگ لگنے سے بڑے پیمانے پر تباہ ہوگیا، جبکہ مارسیلی اور للی میں بھی میونسپل دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔
فرانس میں یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخابات میں تقریباً چھ ماہ باقی ہیں۔ ملک میں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج اور مہنگائی کے خلاف تحریک نے سیاسی ماحول کو بھی متاثر کیا ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کرایوں، مہنگائی اور کم اجرتوں نے ان کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ بعض شرکا نے صدر ایمانوئل میکخواں سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ احتجاج کو 1789 کے فرانسیسی انقلاب سے بھی تشبیہ دی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان واقعات کا ذمہ دار فرانس سمیت مغربی ممالک کی امیگریشن پالیسیوں کو قرار دیا، جبکہ صدر میکخواں نے توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور سرکاری و نجی املاک پر حملوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی اور سخت سزاؤں کا عزم ظاہر کیا۔
فرانس کی اپوزیشن رہنما مارین لو پین نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے بائیں بازو کے رہنما جین لک میلنشون پر مظاہرین کے اقدامات کو جواز فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ دوسری جانب میلنشون نے مظاہرین سے لوٹ مار سے دور رہنے کی اپیل کی۔