غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 340 سے زائد بچے جاں بحق، یونیسف کا اظہارِ تشویش

اقوامِ متحدہ (پاک ٹوڈے): اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 340 سے زائد بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ سینکڑوں بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ کے بچوں کو بدستور سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

جنیوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونیسف کے ترجمان ریکارڈو پیریس نے کہا کہ اپنے بچوں کو کھونے والے خاندانوں کے لیے یہ اعداد و شمار جنگ بندی کے حقیقی معنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔

یونیسف کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران فضائی اور ڈرون حملوں سمیت فائرنگ کے واقعات میں پانچ لڑکے اور دو لڑکیاں ہلاک ہوئیں، جبکہ کم از کم 33 بچے شدید زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ دو لڑکے پہلے لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ غزہ میں تقریباً 8 لاکھ بچے تاحال بے گھر ہیں، جن میں سے بیشتر خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اندازے کے مطابق تقریباً 60 ہزار بچے جنگ کے دوران یا جنگ بندی کے بعد اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً ہر بچے کو جنگ کے نفسیاتی اثرات سے نکلنے کے لیے ذہنی صحت کی معاونت درکار ہے۔

یونیسف نے جنگ کے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کی پاسداری کریں، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

ادارے نے کہا کہ غزہ کے بچوں کی ضروریات کو ترجیح دینا ناگزیر ہے۔ بچوں کی بحالی صرف زندہ رہنے تک محدود نہیں، بلکہ انہیں تعلیم، صحت کی سہولیات، محفوظ رہائش اور کھیلنے کے مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہیں۔

یونیسف نے غزہ میں انسانی امداد اور تجارتی سامان کی بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ ادارے کے مطابق امدادی سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں بچوں اور خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ غزہ کو دوبارہ ایسی صورتِ حال کی طرف نہیں دھکیلا جانا چاہیے جہاں بچوں اور خاندانوں کو بنیادی اشیا اور ضروری خدمات میسر نہ ہوں۔

مشکل حالات کے باوجود یونیسف نے بتایا کہ جنگ بندی کے بعد سے 5 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچوں کو دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں سے منسلک کیا گیا ہے، جبکہ ادارے کے تعاون سے 200 سے زائد تعلیمی مراکز بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کو ڈیجیٹل نقد امداد اور 12 لاکھ افراد کو محفوظ پانی فراہم کیا گیا ہے۔

Related posts

مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا

دیر کالونی اسکول حادثہ: شہداء کے لواحقین میں 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم

آذربائیجان میں حجاب پر تنازع، طالبات کو اسکولوں میں داخلے سے روکنے کی اطلاعات