اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وفاقی حکومت کی جانب سے قومی خزانہ بھرنے کے لیے شہریوں پر بھاری ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کی سرکاری دستاویزات منظرِ عام پر آ گئی ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ شہباز حکومت کے ابتدائی ڈھائی سال کے دوران عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ ۳ ہزار ۱۳۷ ارب روپے وصول کیے گئے ہیں۔
حکومتی دستاویزات کے مطابق، موجودہ انتظامیہ کے آغاز پر ۴ مارچ ۲۰۲۴ کو فی لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت ۲۸۷ روپے ۳۳ پیسے تھی جو بعد میں ریکارڈ ۲۳۳ روپے کے اضافے کے ساتھ تاریخی بلند ترین سطح ۵۲۰ روپے ۳۵ پیسے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ۲۷۹ روپے ۷۵ پیسے سے ۱۷۸ روپے ۶۶ پیسے بڑھ کر ملکی تاریخ میں پہلی بار ۴۵۸ روپے ۴۱ پیسے کی سطح کو چھو گئی۔ فی الوقت فی لیٹر پیٹرول اور ڈیزل پر ۸۰ روپے پیٹرولیم لیوی جبکہ ۵ روپے فی لیٹر کلائمیٹ سپورٹ (کاربن) لیوی الگ سے وصول کی جا رہی ہے۔
مالیاتی تفصیلات بتاتی ہیں کہ حکومت نے مالی سال ۲۶-۲۰۲۵ میں ۱ ہزار ۵۶۷ ارب روپے پیٹرولیم لیوی جبکہ ۵۰ ارب روپے سے زائد کاربن لیوی اکٹھی کی، جو کہ طے شدہ حکومتی ہدف سے تقریباً ۱۰۰ ارب روپے زیادہ ہے۔ اس سے قبل مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ میں ۱ ہزار ۲۲۰ ارب روپے اور اپریل تا جون ۲۰۲۴ کی سہ ماہی میں ۲۹۹ ارب ۶۳ کروڑ روپے وصول کیے گئے تھے۔
آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت جون ۲۰۲۷ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مکمل ڈی ریگولیٹ کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے، تاہم موجودہ لیوی شرح اور قیمتوں کے مسلسل بوجھ نے ملک میں عمومی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کے نرخوں کو شدید متاثر کیا ہے۔