لاہور (پاک ٹوڈے): لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی رہائی سے متعلق درخواست پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو طلب کر لیا ہے۔
جمعرات کو جسٹس ابھر گل خان نے درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار شہرز خان کی جانب سے وکیل رانا مدثر عمر عدالت میں پیش ہوئے اور مؤقف اختیار کیا کہ تینوں بہنوں کے حراستی احکامات کی مدت 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکی ہے، تاہم انہیں تاحال رہا نہیں کیا گیا۔
عمران خان کی بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مقررہ مدت گزرنے کے باوجود ان کی حراست جاری رکھنا غیر قانونی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ابھر گل خان نے استفسار کیا کہ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو درخواست میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ وکیل نے جواب دیا کہ ڈپٹی کمشنر کے جاری کردہ حراستی نوٹیفکیشن کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے بھی عدالت سے ڈپٹی کمشنر کو طلب کرنے کی استدعا کی، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ درخواست میں فریق بنائے بغیر انہیں طلب نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تینوں خواتین کی حراست ان کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ درخواست گزار کے مطابق احتیاطی حراست کو عام فوجداری قانون کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا اور یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 10 اور ایم پی او کی دفعہ 3 میں دیے گئے تحفظات کے منافی ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حراستی احکامات کالعدم قرار دے کر تینوں بہنوں کی رہائی کا حکم جاری کیا جائے۔
عدالت نے سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ رپورٹس کے ساتھ ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔