لاہور (پاک ٹوڈے): لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور کی حراست کے خلاف دائر درخواست کی قابل سماعت ہونے پر دلائل طلب کرلیے۔
جسٹس عبہر گل خان نے علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا حراست کے حکم کے خلاف پہلے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کیا گیا تھا؟
درخواست کے مطابق علیمہ خان کو اتوار کے روز لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے حکم پر 30 دن کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ حکم میں لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور عامر کو عوامی تحفظ اور امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔
حراست کے حکم میں کہا گیا کہ دونوں 9 مئی 2023 کے احتجاج اور سڑکیں بند کرنے کے واقعات میں ملوث رہے، جب عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ دیگر کیسز سے مختلف ہے کیونکہ حراست کی کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور پہلے ہی حراست میں لیے جا چکے تھے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس اور حراست کا نوٹیفکیشن بھی ایک ہی روز جاری ہوئے۔