راولپنڈی (پاک ٹوڈے) پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کو عدالتی احکامات کے باوجود اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
وکیل اویس یونس چوہدری کے مطابق عمران خان کی بہنیں اور 6 وکلا ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں جیل انتظامیہ کی جانب سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے خاندان اور وکلا کی عمران خان سے ملاقات منگل کے روز، جبکہ پارٹی رہنماؤں کی ملاقات جمعرات کو کرانے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔
ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر عمران خان کی بہن عالمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خیبر پختونخوا کے دوروں کے دوران انہیں سرکاری پروٹوکول نہ دینے کی تجویز بھی پیش کی۔
عالمہ خان نے دعویٰ کیا کہ حکمران اشرافیہ خوفزدہ ہے اور ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سڑکوں کی ممکنہ بندش سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت خود سڑکیں بند کرے گی، جس کے بعد چیف جسٹس کو حکومت کو سڑکیں کھولنے کا حکم دینا چاہیے۔
دوسری جانب عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے عدالتی معاملات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ججوں نے پورے ملک کی توہین کی ہے، تاہم میڈیا کی جانب سے بہنوں سے عدلیہ کی توہین سے متعلق سوالات کیے جا رہے ہیں۔
عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے معاملے پر جیل انتظامیہ یا متعلقہ حکام کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔